1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

سوئٹزرلینڈ، مہاجرین کا بحران اب انتخابی مہم میں بھی

یورپ میں مہاجرین کا موجودہ بحران، مہاجرین کے علاوہ بہت سے دیگر افراد کے لیے بھی مشکلات کا باعث بنتا جا رہا ہے۔ تاہم سوئٹزرلینڈ کی دائیں بازو کی سیاسی جماعتیں اب اس بحران کو سیاسی مقاصد کے لیے بھی استعمال کرنے لگی ہیں۔

سوئٹزرلینڈ کے ووٹرز اس مہینے کی اٹھائیس تاریخ کو نئی پارلیمان کا انتخاب کرنے جا رہے ہیں۔ اس مرتبہ دائیں بازو کی مضبوط سیاسی جماعت سوئس پیپلز پارٹی (ایس وی پی) کی انتخابی مہم کا مرکزی نکتہ یورپ میں جاری مہاجرین کا حالیہ بحران ہے۔ ’تمام جرائم پیشہ افراد میں سے نصف غیر ملکی ہیں‘، ’’غیر ملکی ثقافتوں کے انضمام کی بھی ایک حد ہے‘، ’ہمیں اپنی شناخت ترک نہیں کرنا چاہیے‘، ’سوشل سکیورٹی خطرے میں‘۔ آپ کو چاہے یہ نعرے قدامت پرست اور شدید دکھائی دیں، لیکن سوئس پیپلز پارٹی کے لیے یہ انتہائی کارآمد ثابت ہو رہے ہیں۔ اس پارٹی کو امید ہے کہ اس مرتبہ وہ اپنی تاریخ کے سب سے بہترین انتخابی نتائج حاصل کر لے گی۔

DW.COM

پبلک لاء کے تحت چلنے والے نشریاتی ادارے ایس آر ایف (SRF) کی جانب سے کیے گئے ایک سروے کے مطابق سوئس پیپلز پارٹی کو 2011 کے انتخابات کے مقابلے میں اس مرتبہ 1.4 فیصد زیادہ نشتیں ملنے کی توقع ہے۔ گزشتہ انتخابات میں ایس وی پی نے کل دو سو نشستوں میں سے چوّن نشستیں حاصل کی تھیں جب کہ اس کے مقابلے میں سوشل ڈیموکریٹس چھیالیس، دی لبرلز تیس اور کرسچین ڈیموکریٹس اٹھائیس نشستوں پر کامیاب ہوئے تھے۔

بڑی تبدیلی ممکن نہیں

سیاسی مبصرین کے مطابق دائیں بازو کی جماعتوں کی متوقع جیت کی صورت میں بھی سوئٹزرلینڈ میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں ہو گی۔ کیوں کہ سوئس قانون کے مطابق پارلیمان میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی پارٹی حکومت نہیں بناتی بلکہ سوئس کابینہ کا انتخاب چار بڑی جماعتوں کے اراکین میں سے کیا جاتا ہے۔ اسی لیے گزشتہ حکومت میں بھی ایس وی پی کے حصے میں صرف وزارت دفاع کا قلمدان ہی آیا تھا۔

سیاسی امور کے ماہر مشائیل ہرمان نے جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے سے کی گئی گفتگو میں کہا کہ ماضی میں بھی انتخابات جیتنے کے باوجود ایس وی پی کو بہت ہی محدود حکومتی ذمہ داری ملی۔ عوام انہیں اس لیے منتخب کرتے ہیں کہ وہ پارلیمنٹ میں معتدل اور بائیں بازو کی جماعتوں کا محاسبہ کر سکیں۔ لیکن درحقیقت ان کے پاس امیگریشن مخالف پالیسیوں پر عمل درآمد کا اختیار بہت محدود ہوتا ہے۔ اسی لیے اس جماعت کو اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے اکثر ریفرنڈم کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

2009 ء میں سوئس پیپلز پارٹی نے مسجدوں کے میناروں کی تعمیر کے خلاف ریفرنڈم کروایا تھا، جسے سوئس عوام کی تقریبا 58 فیصد عوام کی اکثریت نے منظور کر لیا تھا۔ اسی طرح 2010 ء میں جرائم پیشہ غیر ملکیوں کی ملک بدری سے متعلق ریفرنڈم میں بھی پارٹی کو 52 فیصد لوگوں کی حمایت حاصل ہوئی تھی۔

گزشتہ سال ’بڑے پیمانے پر مہاجرت‘ کے خلاف ہونے والا ریفرنڈم بھی پارٹی نے 50.3 کی معمولی اکثریت سے جیت لیا تھا۔ تاہم یورپی یونین کے ’آزادانہ نقل و حرکت‘کے معاملے پر مذاکرات سے انکار کے باعث سوئس حکومت مہاجرت کے معاملے پر پیش رفت نہیں کر سکی تھی۔ سوئس پیپلز پارٹی آج کل سیاسی پناہ پر ایک سال کی پابندی لگانے کے لیے ریفرنڈم کی تیاری کر رہی ہے۔

نئے مہاجرین کو تسلیم نہیں کیا جائے گا، ایس وی پی

ایس وی پی کے رکن اسمبلی ایوٹ ایسٹرمان نے کہا، ’’اس کا مطلب یہ ہے کہ نہ تو نئے مہاجرین کو تسلیم کیا جائے گا اور نہ ہی انہیں عارضی پناہ دی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے قومی سرحدی نگرانی دوبارہ سے شروع کی جائے گی اور غیر قانونی تارکین وطن کو سختی سے واپس بھیج دیا جائے گا۔‘‘

SVP Schweiz Immigration Masseneinwanderung Plakat 2014 Wahl

سوئس پیپلز پارٹی آج کل سیاسی پناہ پر ایک سال کی پابندی لگانے کے لیے ریفرنڈم کی تیاری کر رہی ہے

دیگر سیاسی جماعتوں کو دائیں بازو کی جماعتوں کے خلاف حکمت عملی بنانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ رواں برس کے آغاز میں یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ مجوزہ قومی سرحدی نگرانی کے بعد انتخابی مہم میں اقتصادی مسئلہ فوقیت اختیار کر لے گا لیکن بائیں بازو کی جماعتوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ اب تک سوئس معیشت خاصی مضبوط ثابت ہوئی ہے۔

ماضی میں سوئٹزرلینڈ نے کثیر تعداد میں مہاجرین کو اپنے ملک میں پناہ دی۔ ملک کی پچیس فیصد آبادی ایسے لوگوں کی ہے، جو بیرون ممالک پیدا ہوئے ہیں۔ لوزان یونیورسٹی میں سیاسی امور کے ماہر آندریاس لاڈنر کے مطابق ایس وی پی نہ صرف پناہ گزینوں سے متعلق قومی پالیسی پر اثر انداز ہونا چاہتی ہے بلکہ وہ بیرون ممالک بھی یہ پیغام بھیجنا چاہتی ہے کہ ’سوئٹزرلینڈ میں پناہ کی درخواست دینے کا کوئی فائدہ نہیں‘۔ لاڈنر کے مطابق سوئس عوام کی اکثریت بھی سوئس پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم کو اسی تناظر میں ہی دیکھ رہی ہے۔