1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سوئس جوڑے کو ہم نے اغوا کیا، پاکستانی طالبان

پاکستانی طالبان نے سوئس جوڑے کے اغوا کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس جوڑے کو امریکہ میں سزا پانے والی عافیہ صدیقی کے بدلے رہا کیا جا سکتا ہے۔

default

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق پاکستانی طالبان کے نائب رہنما ولی الرحمان نے کہا ہے کہ سوئس جوڑا ان کے قبضے میں ہے لیکن انہیں تشدد کا نشانہ نہیں بنایا گیا۔

ولی الرحمان نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے عافیہ صدیقی پر تشدد کیا، جنہیں افغانستان میں ایف بی آئی کے ایجنٹوں اور امریکی فوجیوں پر فائرنگ کرنے پر گزشتہ برس ستمبر میں چھیاسی برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

رحمان نے سوئس جوڑے کو چھوڑنے کے بدلے عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے: ’’امریکہ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو رہا نہ کیا تو اس جوڑے کی قسمت کا فیصلہ ہماری شرعی عدالت کرے گی۔‘‘

روئٹرز کے مطابق رحمان نے یہ باتیں جمعرات کو شمالی اور جنوبی وزیرستان کے درمیانی علاقے شوال میں پاکستانی صحافیوں سے گفتگو میں کہیں۔

NO FLASH Taliban in Pakistan

امریکہ پاکستانی قبائلی علاقے کو القاعدہ کا گلوبل ہیڈکوارٹر بھی کہتا ہے

پاکستان کا یہ قبائلی علاقہ افغانستان کی سرحد سے ملحق ہے اور القاعدہ اور طالبان کے ٹھکانوں کے لیے بدنام ہے۔ امریکہ اس علاقے کو خطرناک ترین خطہ قرار دیتا ہے۔ واشنگٹن حکام اسے القاعدہ کا گلوبل ہیڈکوارٹر بھی کہتے ہیں۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکہ اس علاقے میں طالبان اور القاعدہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرون حملے کرتا ہے جبکہ اس خطے کو انٹیلی جنس ’بلیک ہول‘ بھی کہا جاتا ہے۔

قبل ازیں بلوچستان میں صوبائی حکام نے بتایا تھا کہ اس جوڑے کو افغانستان کی سرحد سے ملحقہ اسی قبائلی علاقے میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

اکتیس سالہ اولیور ڈیوڈ اور اٹھائیس سالہ ڈانیئلہ کو رواں ماہ کے آغاز پر اس وقت اغوا کر لیا گیا تھا، جب وہ بلوچستان میں سفر کر رہے تھے۔ اس پاکستانی صوبے کی سرحدیں افغانستان کے ساتھ ساتھ ایران سے بھی ملتی ہیں۔ یہ جوڑا اٹھائیس جون کو بھارت سے پاکستان پہنچا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ صوبہ پنجاب سے بلوچستان میں داخل ہوا اور شاید وہاں سے ایران جانا چاہتا تھا۔

رپورٹ: ندیم گِل/ خبر رساں ادارے

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس