1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سن 71 کی جنگ، ایک اور بنگلہ دیشی کو سزائے موت

بنگلہ دیش کی ایک خصوصی عدالت نے سن 1971 کی جنگ میں دو مقامی جنگجوؤں کے قتل میں ملوث ہونے کے جرم کے مرتکب ایک شخص کو پھانسی اور دو کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔

بُدھ کو ڈھاکہ میں قائم بنگلہ دیش کی تین رُکنی انٹرنیشنل کرائم ٹریبیونل کی طرف سے اس فیصلے کا اعلان لوگوں سے کھچا کھچ بھرے ایک کورٹ روم میں کیا گیا۔ اس اعلان میں کہا گیا کہ پاکستان سے آزادی حاصل کرنے کے لیے لڑی جانے والی سن71 کی جنگ کے دوران یہ تینوں مجرم دیگر جرائم کے علاوہ بنگلہ دیش کے دو مقامی جنگجوؤں کے قتل میں ملوث تھے۔ ان میں سے ایک کو موت کی جبکہ اس کے دو ساتھیوں کو عمر قید کی سزائی سنادی گئی۔

اُدھر وکلائے صفائی نے کہا ہے کہ وہ بنگلہ دیش کی اس خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف ایک اعلیٰ عدالت میں اپیل درج کریں گے۔ ان مجرموں پر خواتین کی عصمت دری اور نہتے، غیر مسلح افراد کو اذیت پہنچانے اور اُن پر تشدد کرنے کرنے جیسے جراسم کا مرتکب ہونے کے الزامات بھی عائد ہیں۔

اب تک بنگلہ دیش کی سب سے بڑی اسلامی پارٹی، جماعت اسلامی کے پانچ سینیئر رہنماؤں، جن میں امیر جماعت اسلامی بھی شامل ہیں کے علاوہ ان کے نائبین میں سے تین کو اب تک تختہ دار پر لٹکایاجا چُکا ہے۔ ان سب کو جنگی جرائم کا مجرم پایا گیا۔ سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم خالدہ ضیاء کی قیادت والی بنگلہ دیش کی مرکزی اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے ایک سینیئر رہنما کو بھی جنگی جرائم کا مجرم قرار دیتے ہوئے پھانسی دی جا چُکی ہے۔

Bangladesch Gerichtshof in Dhaka hat die Totesstrafe gegen Ali Ahsan Mohammad Mujahid bestätigt

ڈھاکہ میں قائم جنگی جرائم کی خصوصی عدالت



اپوزیشن پارٹی کا کہنا ہے کہ ان ٹرائلز کے پیچھے سیاسی عناصر کار فرما ہیں اور ان کے مقاصد بھی سیاسی ہیں تاہم اس الزام کی ڈھاکہ حکومت کی طرف سے ہمیشہ تردید کی جاتی رہی ہے۔ بنگلہ دیش کا کہنا ہے کہ سن 71 کی جنگ آزادی میں پاکستانی فوجیوں نے اپنے مقامی حلیفوں کے ساتھ مل کر جو قتل و غارت گری مچائی تھی اُس کے نتیجے میں 3 ملین افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ دو لاکھ کے قریب خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا اور اُن کی عصمت لوٹی گئی تھی۔ اُس جنگ میں 10 ملین افراد اپنا گھر بار چھوڑ کر بھارت میں مہاجر کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے تھے۔ اُس وقت پڑوسی ملک بھارت نے بنگلہ دیش کو ہتھیاروں، جنگی تربیت اور دیگر امداد فراہم کی تھی۔

DW.COM