سن 2017 مسلح تنازعات ميں پھنسے بچوں کے ليے ايک ہولناک سال | حالات حاضرہ | DW | 28.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سن 2017 مسلح تنازعات ميں پھنسے بچوں کے ليے ايک ہولناک سال

بچوں کے حقوق کے ليے سرگرم اقوام متحدہ کے ادارے يونيسف کے مطابق مسلح تنازعات والے علاقوں ميں مقيم بچوں کو رواں سال ’حيران کن‘ حد تک حملوں کا سامنا رہا۔

يونيسف کی جانب سے جمعرات اٹھائيس دسمبر کو جاری کردہ ايک بيان ميں کہا گيا ہے کہ مسلح تنازعات کی زد ميں موجود علاقوں ميں حملہ آوروں نے سب سے نازک افراد کے تحفظ کے ليے بنائے گئے بين الاقوامی قوانين کو بڑے بے باک انداز سے توڑا۔ يونيسف کے ڈائريکٹر برائے ہنگامی پروگرامز مانوئل فونٹين نے کہا، ’’بچوں کو ان کے گھروں، اسکولوں اور کھيل کود کے ميدانوں ميں بے رحمانہ تشدد کا سامنا ہے اور انہيں ہدف بنايا جا رہا ہے۔‘‘ انہوں نے عالمی برادری پر زور ديتے ہوئے کہا کہ ايسے حملوں سے منہ نہيں موڑا جا سکتا۔ فونٹين کے بقول ايسی بے دردی کو تسليم نہيں کيا جانا چاہيے۔

اس وقت دنيا بھر ميں جاری متعدد مسلح تنازعات ميں بچے انتہائی نازک صورتحال سے دوچار ہيں۔ کہيں بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کيا جاتا ہے، کہيں ان کا قتل عام ہے تو کہيں انہيں لڑائی کے ليے کم عمری ہی سے تربيت دی جاتی ہے۔ علاوہ ازيں بچوں ميں زبردستی کی شادياں، جبری مشقت اور ان کے ساتھ جنسی زيادتی کے واقعات کافی بڑھ گئے ہيں۔ يونيسف کے مطابق شام، نائجيريا، ميانمار، يمن اور مسلح تنازعات کی لپيٹ ميں ديگر کئی ممالک ميں ايسے واقعات عام ہيں۔

اقوام متحدہ کے اس ذيلی ادارے نے خبردار کيا ہے کہ براہ راست تشدد کے علاوہ مسلح تنازعات ديگر کئی ملين بچوں کی زندگياں بھی منفی انداز سے متاثر کر رہے ہيں۔ بچوں ميں خوراک کی کمی کے سبب پيدا ہونے والی طبی پيچيدگياں، مختلف بيمارياں، غم، کھانے پينے کی قلت اور ديگر مسائل عام ہيں۔ بيشتر مقامات پر مسلح کارروائيوں کے نتيجے ميں بچوں کے ليے موجود سہوليات کا اب نام و نشان تک نہيں ہے۔

يونيسف کے بيان کے مطابق افريقی رياست کونگو ميں تشدد اور مسلح کارروائيوں کے سبب قريب ساڑھے آٹھ ملين بچوں کو ان کے گھروں سے نکلنا پڑا جبکہ ساڑھے تين لاکھ بچوں کو غذا کی شديد قلت کا سامنا ہے۔ اسی طرح يمن ميں پانچ ہزار بچوں کی اموات ريکارڈ کی جا چکی ہے جبکہ اس وقت بھی گيارہ ملين بچوں کو انسانی بنيادوں پر امداد درکار ہے۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات