1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

سن 2015، دس لاکھ افراد بحیرہ روم عبور کر کے یورپ پہنچے

رواں سال دس لاکھ سے زائد مہاجرین بحیرہ روم کے ذریعے یورپ پہنچے، جن میں سے نصف کا تعلق شام سے ہے۔ یورپ پہنچنے کی کوشش میں اس دوران 35 ہزار سے زائد افراد سمندر برد یا لاپتہ بھی ہو گئے۔

Griechenland Flüchtlinge Wärmedecke Strand Ufer Boot Ankunft Kälte

سن 2014ء میں اس پُرخطر سمندری راستے سے یورپ پہنچنے والے افراد کی تعداد دو لاکھ انیس ہزار تھی

اقوام متحدہ کے مہاجرین کے ادارے یو این ایچ سی آر نے بدھ تیس دسمبر کے روز بتایا کہ سن 2015 کے دوران مجموعی طور پر دس لاکھ 573 مہاجرین اور تارکین وطن بحیرہ روم کی لہروں کا مقابلہ کرتے ہوئے یورپ پہنچنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔

اس ادارے کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اپنی جان خطرے میں ڈال کر یورپ پہنچنے والے افراد میں سے زیادہ تر کو بین الاقوامی تحفظ کی ضرورت بھی ہے۔

سن 2014ء میں اس پُرخطر سمندری راستے سے یورپ پہنچنے والے افراد کی تعداد دو لاکھ انیس ہزار تھی۔ تاہم رواں برس یہ تعداد بڑھ ماضی کے تمام تر اندازوں کو عبور کر چکی ہے۔ بڑی تعداد میں مہاجرین کی یورپ آمد کی وجہ سے جہاں یورپی ممالک کی حکومتوں کو انتظامی مسائل کا سامنا ہے، وہیں یورپی یونین کے رہنماؤں میں یہ اختلافات بھی نمایاں ہو چکے ہیں کہ آخر اس بحران پر قابو کیسے پایا جائے؟

یو این ایچ سی آر کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق یکم جنوری سے انتیس دسمبر تک بحیرہ روم کے پانیوں کو عبور کرتے ہوئے یورپ پہنچنے والے افراد کی تعداد دس لاکھ سے متجاوز تو ہو چکی تھی، لیکن اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک یونان ہے۔ اس سمندری راستے کو عبور کرتے ہوئے زیادہ تر مہاجرین پہلے یونان ہی پہنچتے ہیں۔

یو این ایچ سی آر کے مطابق اس برس یونان پہنچنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کی تعداد آٹھ لاکھ چوالیس ہزار 176 بنتی ہے۔ دوسرے نمبر اٹلی کا ہے، جہاں پہنچنے والے ایسے غیر ملکیوں کی تعداد ایک لاکھ باون ہزار سات سو ہے۔ یہ مہاجرین بعد ازاں مغربی اور شمالی یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

شام میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے وہاں چار ملین سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ اس سال کے آغاز پر ان بے گھر افراد کو زیادہ تر ہمسایہ ممالک میں ہی پناہ دی گئی تھی۔ اردن، لبنان اور ترکی ایسے نمایاں ممالک ہیں، جہاں شامی پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد عارضی کیمپوں میں سکونت پذیر ہے۔ تاہم رواں برس کی دوسری سہ ماہی میں ان مہاجرین نے ایک پرسکون اور بہتر زندگی کی خواہش میں یورپ پہنچنے کی کوششیں شروع کر دیں۔

صرف جون میں ہی پچاس ہزار سے زائد مہاجرین بحیرہ روم کے ذریعے یورپ پہنچنے میں کامیاب ہوئے جبکہ صرف ستمبر کے مہینے میں یہ ماہانہ تعداد ڈیرھ لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔ یو این ایچ سی آر کے مطابق اکتوبر میں ماضی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ صرف اُس مہینے میں بحیرہ روم کے مختلف سمندری راستوں سے دو لاکھ آٹھ ہزار مہاجرین یورپ پہنچے۔

Griechenland Syrische Flüchtlinge machen ein Selfie auf der Insel Kos

یورپ پہنچنے کی کوشش میں اس دوران 35 ہزار سے زائد افراد سمندر برد یا لاپتہ بھی ہو گئے

ان مہاجرین میں بڑی تعداد شامی باشندوں کی تھی جبکہ دوسرے نمبر پر افغان شہری تھے۔ اس برس بحیرہ روم کے راستے یورپ پہنچنے والے مہاجرین کی کل تعداد میں اکیس فیصد افغان باشندے شامل ہیں۔ تیسرے اور چوتھے نمبر پر عراق اور اریٹریا ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان، نائجیریا، صومالیہ، سوڈان، گیمبیا اور مالی کے باشندے بھی بڑی تعداد میں رواں برس بحیرہ روم کے راستے یورپ پہنچے ہیں۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ برس یعنی 2016ء میں بھی اسی سمندری راستے کو عبور کرتے ہوئے یورپ پہنچنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کی تعداد کم نہیں ہو گی۔ اس کی وجہ شامی بحران اور دیگر شورش زدہ علاقوں میں سکیورٹی کی ابتر صورتحال بتائی گئی ہے۔