1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سن 1967ء کی ختم نہ ہونے والی جنگ، ڈی ڈبلیو کا تبصرہ

عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان چھ روزہ جنگ پانچ جون سن 1967 کو شروع ہوئی تھی۔ بظاہر یہ جنگ دس جون کو ختم ہو گئی تھی لیکن حقیقت میں یہ ابھی تک جاری ہے۔

Sechstagekrieg - Israel - Eroberung von Jerusalem (Getty Images/AFP/P. Guillaud)

اسرائیلی ٹینک مشرقی یروشلم میں

پچاس برس قبل اسرائیل اس جنگ کو شروع کرنے کے لیے مجبور ہو گیا تھا کیونکہ مصری افواج جزیرہ نما سینائی میں اگلے محاذوں پر تھیں اور خلیج تیران کی ناکہ بندی کر دی گئی تھی۔ سینائی کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے اسرائیل نے اپنے ریزرو فوجی طلب کر لیے تھے جب کہ دوسری جانب شام کے ساتھ پانی کے کنٹرول کا تنازعہ بھی شدت اختیار کر گیا تھا۔

عالمی برادری اور خاص طور پر امریکا اس جنگ کا مخالف تھا اور اُس نے واضح کیا کہ جو پہلے حملہ کرے گا، وہی نتائج کا ذمہ دار ہو گا۔ مگر اسرائیلی فوجی کمانڈروں کا خیال تھا کہ حملے میں پہل کرنے کی صورت میں جنگ جیتی جا سکتی ہے۔ وزیر اعظم لیوی ایشکول نے ہچکچاہٹ کے باوجود اس منصوبے پر عمل درآمد کر دیا تھا۔

اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ کے اُس وقت کے نائب اسپیکر اور بعد میں وزیر دفاع بننے والے موشے دایان کا بھی یہی کہنا تھا کہ دفاعی جنگ کی صورت میں شکست یقینی ہے اور فائدہ حملے میں پہل کرنے ہی میں ہے۔ بظاہر اسرائیل نے چھ روزہ جنگ میں فتح ضرور حاصل کر لی تھی لیکن حقیقت میں یہ ایک شکست تھی۔ کاغذوں پر یہ جنگ چھ روز بعد ختم ہو گئی تھی لیکن جنگ کے بعد کا ساتواں دن پچاس برس گزرنے کے بعد بھی ختم نہیں ہوا۔

Sechstagekrieg – Israel – Gefangene (Picture-alliance/AP/Keystone/Israel Army)

عرب اسرائیل جنگ میں کئی مقامات پر عرب فوجیوں نے ہتھیار پھینک دیے تھے

اس جنگ کے نتیجے میں اسرائیل کا کئی علاقوں پر قبضہ، پھر اُن کا اسرائیل میں انضمام اور دنیا کے مقدس ترین مقامات کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد تنازعے میں شدت پیدا ہو گئی۔ جنگ سے قبل پچاس سے ساٹھ برس کے اسرائیلی شہریوں کا خیال تھا کہ وہ ایک اور ہولوکوسٹ کا حصہ بننے جا رہے ہیں۔ جنگ شروع ہونے کے بعد اسرائیل کو بالادستی حاصل ہوئی اور مغربی اردن، جزیرہ نما سینائی، مشرقی یروشلم کے علاوہ گولان کی پہاڑیوں پر بھی قبضہ کر لیا گیا۔

وزیر اعظم لیوی ایشکول نے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنگ میں کامیابی جنگ کا اختتام نہیں ہو گا۔ تجزیہ کار یہ جاننے کی کوشش میں ہیں کہ اس جنگ میں اسرائیل کی فتح ایک اچانک موقع کی تلاش کا نتیجہ تھی یا کسی واضح اور مربوط پلان کا نتیجہ۔

اسرائیل خطے میں جاری کشمکش کا اکلوتا فریق نہیں ہے۔ لیکن ایک بات واضح ہو گئی ہے کہ اُس کی مکمل تباہی کے تمام دعوے باطل ہو چکے ہیں۔ گزشتہ پچاس برسوں سے اسرائیل چبھنے والے حالات کا سامنا کر رہا ہے اور یہ مسلسل جاری رہنے والی ایک عبوری صورت حال ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ دائمی امن کے لیے مفاہمت کا امکان نہیں لیکن اسرائیلی لیڈروں کو یہ بھی معلوم ہے کہ مصالحت کے بغیر یروشلم کے تنازعے کا کوئی حل ممکن نہیں۔

ڈینا راگیو ⁄  عابد حسین