1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’سن دو ہزار پچاس تک دنیا کی آبادی دس بلین ہو جائے گی،

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق سن 2050 میں عالمی آبادی 7.6 بلین سے تجاوز کر کے 9.8 بلین ہو جائے گی۔ اس عرصے میں دنیا کی نصف آبادی جن نو ممالک پر مشتمل ہو گی اُن میں پاکستان بھی شامل ہے۔

Pakistan Karachi Sarfraz Ahmad (Getty Images/AFP/R. Tabassum)

سن دو ہزار پچاس تک دنیا کی نصف آبادی جن نو ممالک پر مشتمل ہو گی اُن میں پاکستان بھی شامل ہے

اقوام متحدہ کے شعبہ اقتصادیات و سماجی معاملات کی جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سن 2050 تک امریکا کی جگہ لیتے ہوئے نائجیریا دنیا کا تیسرا سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن جائے گا۔

رپورٹ کے مصنفین کے مطابق،’’ دنیا کی آبادی میں ہر سال قریب  83 ملین افراد کا اضافہ ہو رہا ہے جبکہ  آبادی  میں اضافے کا یہ رحجان باوجود اُن اندازوں کے جاری رہنے کی توقع ہے جن کے مطابق آئندہ سالوں میں باروری کی سطح  مستقل  طور پر گرتی جائے گی۔‘‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس حساب سے سن 2030 میں دنیا کی آبادی 8.6 بلین، سن 2050 میں 9.8 بلین جبکہ سن 2100 میں 11.2 بلین تک پہنچ جائے گی۔ بھارت جو 1.3 بلین باشندوں کے ساتھ دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے، سن 2024 تک 1.4 آبادی والے ملک چین کو پیچھے چھوڑ دے گا۔

Triptychon Dossierbild 2 Indien (picture-alliance/dpa)

بھارت جو 1.3 بلین باشندوں کے ساتھ دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے، سن 2024 تک 1.4 آبادی والے ملک چین کو پیچھے چھوڑ دے گا

 رپورٹ کے تخمینوں کے مطابق  سن 2050  تک دنیا کی نصف آبادی صرف نو ممالک پر مرکوز ہو گی۔ ان ممالک میں بھارت، پاکستان، کانگو، نائیجیریا، ایتھوپیا تنزانیہ، امریکا،یوگنڈا اور انڈونیشیا شامل ہیں۔ رپورٹ میں درج  ہے کہ مذکورہ نو ممالک کو عالمی آبادی میں اُن کی متوقع حصہ داری کی بنا پر شامل کیا گیا ہے۔

تاہم رپورٹ سے واضح ہو رہا ہے کہ نائجیریا کی آبادی جس تیزی سے بڑھ رہی ہے اُس سے یہ امکان ہے کہ سن 2050 تک چھبیس افریقی ممالک کی آبادی کم از کم دوگنی ہو جائے گی۔ اسی عرصے میں ساٹھ سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کی تعداد  دوگنا ہو جانے کی توقع  ہے۔

DW.COM