1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سن دو ہزار سولہ، اقتصادی راہداری ایک بڑی کامیابی

دو ہزار سولہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے خاصا اہم ثابت ہوا۔ ایک جانب پاک چین اقتصادی راہداری خطے میں گیم چینجر ثابت ہو رہی ہے تو دوسری طرف روس کے ساتھ نئے اتحاد کی راہ بھی ہموار ہو رہی ہے۔

سن دو ہزار سولہ کے دوران پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے مشیران کی مدد سے بہتر اور مؤثر سفارتکاری اور معاشی ترقی کے لیے کئی ایسے ممالک سے تعلقات استوار کرنے کا آغاز کیا، جن پر اسلام آباد نے پہلے کبھی کوئی خاص توجہ نہیں دی تھی۔ اسلام آباد کی طرف سے روس سے پہلے ہیلی کاپٹرز کی خریداری کے معاہدے اور پھر مشترکہ فوجی مشقوں کے انعقاد نے علاقائی سطح پر پاکستان کی اہمیت کو زیادہ بنا دیا۔ اس پیشرفت کو ہمسایہ ملک بھارت نے بھی نوٹ کیا ہے۔

پاکستان: سال دو ہزار سولہ اور سیاسی و سماجی منظرنامہ
2016ء پاکستانی فلمی دنیا اور ادب کے حوالے سے کیسا رہا؟

سال 2016ء خواجہ سراؤں کے لیے کیسا رہا؟
سی پیک منصوبے کی کامیابی کے لیے پر عزم ہیں، جنرل باجوہ

سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی خارجہ پالیسی ہمیشہ قومی مفاد کو سامنے رکھ کر تیار کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سن دو ہزار سولہ میں پاکستان کو بھارت کی جانب سے ’یلغار‘ کا سامنا رہا اور پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنے کے دعوے کیے گئے مگر اصل میں بھارت خود تنہا ہوتا چلا گیا۔

امریکا کے ساتھ تعلقات میں اتار چڑھاؤ کے بعد پاکستان کی توجہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو کامیاب بنانے اور معاشی اہداف حاصل کرنے کے علاوہ روس اور وسط ایشیائی ممالک سے تعلق مزید بہتر بنانے پر مرکوز رہی۔ راہداری منصوبے کو پاکستان کے لیے اندرون اور بیرون ملک گیم چینجر کہا جا رہا ہے کیونکہ ایک طرف تو اس سے ملک کو درپیش توانائی کے بحران کا خاتمہ ہوجائے گا بلکہ حکومتی کوششوں سے ملکی معیشت کو ملنے والے استحکام کو بھی دوام نصیب ہوگا۔

Shanghai Cooperation Organisation Gipfel in Ufa Premierminister Nawaz Sharif und Präsident Wladimir Putin (picture alliance/dpa/SCO Photoshot/Ria Novosti)

پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ

 

سابق سیکرٹری خارجہ نجم الدین شیخ کہتے ہیں کہ سن دو ہزار سولہ میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان بارڈر مینجنمنٹ پر ہونے والی بات چیت بہت اہم رہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو افغانستان اور بھارت کے بڑھتے تعلقات پر تشویش ضرور ہے اور اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ کہیں نا کہیں اس اتحاد کو امریکا کا ’آشیرباد‘ بھی حاصل ہے، لہذا ٹرمپ انتظامیہ کے ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد نئی صف بندی ہو گی مگر پاکستان کا خطے میں کردار اہم ہی رہے گا۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی کہتی ہیں کہ بھارت کے ’جارحانہ عزائم‘ کا پاکستان نے بہت دانش مندی سے جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیر میں چلنے والی آزادی کی تحریک کو دبانا چاہتا ہے مگر پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو نہ صرف عالمی سطح پر بلکہ اقوام متحدہ میں بھرپور انداز سے اجاگر کیا ہے۔ لودھی کے بقول دو ہزار سولہ میں افغانستان کی تلخ سفارتکاری کے جواب میں پاکستان نے جواب بردباری اور تحمل سے دیا تاکہ افغانستان میں پائیدار امن قائم ہوسکے۔

ستمبر2016 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وزیراعظم نواز شریف نے مسئلہ کشمیر کو بھرپور طریقے سے اجاگرکیا۔ پاکستان نے کامیاب سفارتکاری سے مسئلہ کشمیر پر ترکی، روس، سعودی عرب ایران سمیت کئی اہم ممالک کے سربراہان حکومت تک اپنا پیغام پہنچایا۔

بین الاقوامی امور کے ماہر اور کراچی یونیورسٹی میں فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے ڈین ڈاکٹر مونس احمر کہتے ہیں کہ پاک بھارتی حالیہ کشیدگی کی وجہ سے جنوبی ایشیا میں ایک بار پھر جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں کیونکہ وزیر خارجہ نہ ہونے کے باعث پاکستان کی خارجہ پالیسی وزیر اعظم اور فوجی اسٹبلشمنٹ پر انحصار کرتی ہے۔

موسن احمر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے علاوہ جنوبی ایشیا کا ایک اور اہم مسئلہ انڈس واٹر ٹریٹی بھی ہے کیونکہ بھارت کی جانب سے پاکستان کا پانی بند کرنے کی دھمکی کا ورلڈ بینک نے بھی نوٹس نہیں لیا اور پاکستان میں ہونے والی سارک کانفرنس بھارت کی وجہ سے ملتوی ہوئی، جو ایک افسوس ناک عمل ہے۔

ڈاکٹر مونس نے مزید کہا کہ سن 2016 میں امریکی صدارتی انتخابات کی وجہ سے امریکا کی توجہ مقامی معاملات پر رہی اور اب نئی انتظامیہ ہی پاکستان یا بھارت سے تعلقات کی سمت طے کرے گی لیکن اس حوالے سے روس اور چین سے پاکستان کے مستحکم ہوتے تعلقات خوش آئند  ہیں جبکہ سن2017 میں چین، روس، بھارت اور پاکستان کا نیا گروپ سامنے آسکتا ہے۔

 

 

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات