1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سنگھ حکومت پر اب رشوت کا الزام

نئی دہلی ميں امريکی سفارتخانے کے ايک اہلکار کا کہنا ہے کہ اس نے سن 2008 ميں بھارتی پارليمنٹ ميں حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی ايک رائے شماری سے پہلے اراکین کو رشوت دينے کے لیےنوٹوں کی بہت موٹی موٹی گڈياں ديکھی تھيں۔

default

اس انکشاف جمعرات کو بعض سفارتی کیبلز کے منظر عام پر لائے جانے سے ہوا۔ اپوزيشن نے دونوں پارليمانی ايوانوں ميں اس پر احتجاج کرتے ہوئے وزيراعظم من موہن سنگھ کی حکومت سے مطالبہ کيا ہے کہ وہ ان الزامات کے سبب مستعفی ہو جائیں۔ يہ بھارتی حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والے الزامات کی ايک نئی لہر ہے۔

نئی دہلی ميں امريکی سفارتی عملے کے رکن کو حکمران کانگريس پارٹی کے ايک سینئر سياستدان نے نوٹوں کی گڈياں دکھائی تھيں اور يہ بھی بتايا تھا کہ کانگريس پارٹی کی حکومت کو عدم اعتماد کے ووٹ پر شکست سے بچانے کے لیے 25 ملين کی رقم رکھی گئی تھی۔

Indien Premierminister Singh

بھارتی حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والے الزامات کی یہ ايک نئی لہر ہے

يہ سفارتی پیغامات وکی ليکس نے روزنامہ دی ہندو کو فراہم کیے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کانگريس کی ممتاز شخصيت ستيش شرما کے معاون کپور نے کس طرح يہ بيان کيا کہ پارليمنٹ کے چار اراکين کے ووٹوں کو 25 لاکھ روپوں ميں خريدا گیا۔ جس واقعے کا الزام لگايا جا رہا ہے، وہ وزير اعظم من موہن سنگھ کے امريکہ سے ايٹمی ری ايکٹر اور ايٹمی ايندھن خريدنے کے معاہدے سے کچھ ہی پہلے پيش آيا تھا۔

رپورٹ: شہاب احمد صدیقی

ادارت: مقبول ملک