1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سنگا پور سرمایہ کاری کے لئے سب سے زیادہ سازگار

واشنگٹن میں بدھ کو جاری ہونے والے ایک جائزے میں کہا گیا ہے کہ پوری دُنیا میں کہیں بھی سرمایہ کاری کے لئے حالات اُس قدر سازگار نہیں ہیں، جتنا کہ سنگاپور، ہانگ کانگ یا پھر نیوزی لینڈ میں۔ گویا سنگا پور پہلے نمبر پر ہے۔

default

سنگا پور کی ایک جدید عمارت

سنگا پور نے یہ مقام پہلی مرتبہ حاصل نہیں کیا بلکہ یہ جنوب مشرقی ایشیائی ریاست گزشتہ پانچ برسوں سے دُنیا کے سرمایہ کاری کے لئے سازگار ترین ملکوں کی فہرست میں مسلسل پہلے نمبر پر آ رہی ہے۔ ورلڈ بینک کی جانب سے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے تعاون سے جاری ہونے والی اِس سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنگا پور چھوٹے اور درمیانے سائز کے کاروباری اداروں کے لئے سرمایہ کاری کے اعتبار سے آسان ترین جگہ ہے۔

’ڈُوئِنگ بزنس 2011ء‘ کے عنوان سے جاری ہونے والی اِس رپورٹ میں مجموعی طور پر 183 ممالک کا جائزہ لیا گیا ہے۔ چوٹی کے دَس ممالک میں برطانیہ، ڈنمارک، ناروے، آئر لینڈ، آسٹریلیا، کینیڈا اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ بھی شامل ہیں۔ جرمنی اِس فہرست میں مستحکم 22 ویں پوزیشن پر ہے۔ وسطی افریقی ریاست چاڈ اِس فہرست میں 183ویں اور یوں آخری نمبر پر ہے۔

Einkaufszentrum in Singapur

سنگا پور کا ایک شاپنگ سینٹر

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اُن تیس ممالک میں سے، جہاں گزشتہ برس حالات میں سب سے زیادہ بہتری دیکھنے میں آئی، ایک تہائی ممالک کا تعلق براعظم افریقہ سے ہے۔ رپورٹ کے مطابق ترقی پذیر اور ترقی کی دہلیز پر کھڑے ممالک میں اصلاحات کا عمل اب زیادہ تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے۔ جون 2009ء اور مئی 2010ء کے درمیان اکٹھے کئے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق اِس عرصے کے دوران اِن میں سے دو تہائی ممالک میں ایسی اصلاحات عمل میں لائی گئیں، جو کاروباری اداروں کے حق میں جاتی تھیں۔ چھ سال پہلے تک یہ صورتِ حال محض ہر تیسرے ملک میں دیکھنے میں آ رہی تھی۔ تاہم اِس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جس ملک نے سرمایہ کاروں کے لئے سب سے اچھے حالات پیدا کئے ہیں اور نئی کمپنیوں کے قیام یا ٹیکسوں کے اعتبار سے آسانیاں پیدا کی ہیں، وہ قازقستان ہے۔

Doing Business 2010: Reforming through Difficult Times

گزشتہ سال کی ’ڈُوئنگ بزنس‘ رپورٹ میں بھی سنگا پور نے پہلی پوزیشن حاصل کی تھی

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غریب ملکوں میں سرمایہ کاری کے حالات بہتر ہونے کے باوجود کاروباری اداروں کو اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم OECD کے امیر اور خوشحال رکن ملکوں میں کام کرنا اور پیسہ لگانا سب سے آسان لگتا ہے۔ اِس کے برعکس افریقہ میں صحارا سے جنوب کی طرف واقع علاقوں اور جنوبی ایشیا میں فرموں کے لئے حالات سب سے زیادہ سخت بھی ہیں اور وہاں ملکیتی حقوق کے تحفظ کی حالت بھی خراب ترین ہے۔ پاکستان اِس فہرست میں 83 ویں، سری لنکا 102 ویں، بنگلہ دیش 107 ویں، نیپال 116 ویں، بھارت 134 ویں جبکہ افغانستان 167 ویں نمبر پر ہے۔

رپورٹ: امجد علی / خبر رساں ادارے

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس