1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سنکیانگ میں خونریزی کے ذمہ دار مسلم انتہا پسند، بیجنگ

چین نے ملک کے شمال مغربی علاقوں میں بے چینی اور پر تشدد واقعات کی ذمہ داری علیحدگی پسند مسلمان انتہا پسندوں پر عائد کی ہے۔ ایسے مزید واقعات سے بچنے کے لیے ان علاقوں میں سکیورٹی بھی سخت کر دی گئی ہے۔

default

تاریخی شاہراہ ریشم پر واقع شہر کاشغر میں حالیہ اختتام ہفتہ پر دو مختلف واقعات میں 19 لوگ ہلاک کر دیے گئے۔ صوبہ سنکیانگ کے اس علاقے میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے اور ان میں سے زیادہ تر کا تعلق ترک نژاد ایغور نسل سے ہے۔

کاشغر کی مقامی حکومت کی طرف سے اپنی ویب سائٹ پر جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک دھماکے کے پیچھے جن شدت پسندوں کا ہاتھ ہے انہوں نے پاکستان میں دھماکہ خیز مواد تیار کرنے کی تربیت حاصل کی۔ بیان میں کہا گیا ہے: ’’مشرقی ترکستان اسلامی موومنٹ نامی دہشت گرد گروپ کے سربراہوں نے سنکیانگ میں داخل ہونے سے قبل پاکستان میں دھماکہ خیز اور آتشیں اسلحہ بنانے کی تربیت حاصل کی۔‘‘

ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ETIM) سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں کے لیے خود مختار ملک کی خواہاں ہے۔ چینی حکام کی طرف سے ماضی میں بھی دہشت گردانہ کارروائیوں کی ذمہ داری اس گروپ پر عائد کی جاتی رہی ہے۔ اقوام متحدہ اور امریکہ ETIM کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔ واشنگٹن اور بیجنگ کا مؤقف ہے کہ اس تحریک نے تربیت اور فنڈنگ القاعدہ سے حاصل کی ہے، جبکہ بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال اس سے مختلف ہے۔

کاشغر میں حالیہ اختتام ہفتہ پر دو مختلف واقعات میں 19 لوگ ہلاک کر دیے گئے

کاشغر میں حالیہ اختتام ہفتہ پر دو مختلف واقعات میں 19 لوگ ہلاک کر دیے گئے

سنکیانگ میں موجود 80 لاکھ ترک بولنے والے ایغور مسلمانوں کی زیادہ تر آبادی ان کے بقول کئی عشروں سے جاری سیاسی اور مذہبی جبر اور دباؤ پر نا خوش ہے۔ اس کے علاوہ ہان نسل کے لوگوں کو اس علاقے میں بسانے کی حکومتی پالیسی بھی ان مسلمانوں کے لیے ناخوشی کا باعث ہے۔ سنکیانگ میں حالات زندگی میں بہتری آئی ہے تاہم ایغور مسلمانوں کے بقول اس کا زیادہ تر فائدہ ہان نسل کے لوگوں کو پہنچ رہا ہے۔ انہی وجوہات کے باعث سنکیانگ میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ قدرتی وسائل کی دولت سے مالا مال اس چینی صوبےکی سرحدیں آٹھ ممالک سے ملتی ہیں، جن میں افغانستان اور پاکستان بھی شامل ہیں۔

چینی حکام کے مطابق اتوار کو ایک ریسٹورنٹ میں ہونے والے حملے میں 11 افراد ہلاک ہوئے جبکہ ہفتے کے روز کاشغر کی ایک مارکیٹ میں چاقووں سے حملوں میں آٹھ افراد ہلاک جبکہ 20 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق پولیس کی فائرنگ سے پانچ حملہ آور بھی ہلاک ہوئے۔

انگریزی زبان کے ایک چینی اخبار کے مطابق حالیہ دنوں میں اس طرح کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اخبار کے اداریے میں کہا گیا ہے کہ غیرملکی عسکریت پسند ایغور اور ہان نسل کے چینی باشندوں کے درمیان اختلافات کو ہوا دے رہے ہیں۔ اخبار کے مطابق مغربی میڈیا کا ایک حصہ دہشت گردوں کے ساتھ ہمدردی بھی جتا رہا ہے، جس کے باعث شدت پسندی کو ہوا مل رہی ہے۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: مقبول ملک

DW.COM