1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سنکیانگ میں حملے، کم از کم سات افراد ہلاک

چین کے مغربی صوبے سنکیانگ میں دھماکوں اور چاقوؤں سے حملے کے نتیجے میں کم از کم سات افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

default

سنکیانگ میں اس نوعیت کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے

چینی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ہفتہ کے روز ملک کے مسلم اقلیتی آبادی والے علاقے سنکیانگ Xinjiang میں دو افراد نے خنجر کے وار کرکے سات افراد کو ہلاک اور دیگر 28 کو زخمی کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق کاشغر شہر میں ان فسادات کے دوران ایک حملہ آور بھی مارا گیا ہے۔ ان حملوں سے قبل دو بم دھماکوں کی بھی اطلاعات ہیں۔

پولیس کے مطابق حملہ آوروں میں سے ایک کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس نے پہلے ایک ٹرک کے ڈرائیور کو قتل کیا اور بعد میں بلاتفریق شہریوں پر قاتلانہ حملے کیے۔ چین کے شمال مغربی علاقے میں 2009ء کے دوران ہان نسل کے چینی شہریوں اور ایغور باشندوں کے مابین فسادات میں لگ بھگ دو سو افراد مارے گئے تھے۔

China Jahrestag Unruhen in Xinjiang Moschee Freitagsgebet in Urumqi

بعض ایغور گروپس آزادی کا مطالبہ کر رہے ہیں

ایغور باشندے ہان نسل کے شہریوں کے بارے میں تحفظات رکھتے ہیں اور بعض ایغور گروپس آزادی کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔ سنکیانگ میں دو ہفتوں کے دوران یہ دوسرا پر تشدد واقعہ ہے۔ ابھی اٹھارہ جولائی کو سنکیانگ میں اٹھارہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ چینی حکومت کے مطابق ہلاک ہونے والے شر پسند تھے جب کہ بعض ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے ایک پولیس اسٹیشن کے باہر پر امن مظاہرہ کر رہے تھے۔

ہفتہ کی شب ہونے والے تازہ حملوں میں ایک حملہ آور کو عام افراد نے مار مار کر ہلا ک کر دیا۔ حکومت کے مطابق اٹھائیس افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے واقعے کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ حکام کا کہنا کہ یہ بات قبل از وقت ہے کہ حملہ آور ایغور تھے یا ان حملوں کا اٹھارہ جولائی کے حملوں سے کوئی تعلق ہے۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM