1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سنکیانگ فسادات کے دو برس: ایمنسٹی کی چین پر تنقید

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ چین سنکیانگ کے نسلی فسادات کے دو برس بعد بھی اختلاف رائے کی آوازوں کو دبا رہا ہے۔ ایمنسٹی کے مطابق آواز اٹھانے والے ایغور باشندوں کو جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے۔

default

جولائی 2009ء میں سنکیانگ کے دارالحکومت ارمچی میں اکثریتی ہان چینیوں اور مسلم اقلیتی ایغور باشندوں کے درمیان نسلی فسادات پھوٹ پڑے تھے۔ اس دوران تقریباﹰ دو سو افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس وقت سے چین میں نو افراد کی سزائے موت پر عملدرآمد ہو چکا ہے، جنہیں فسادات کے ذمہ دار قرار دیا گیا۔ ساتھ ہی سینکڑوں دیگر افراد کو گرفتار کیا گیا اور ان کے خلاف مقدمے چلائے گئے۔

ایشیا پیسیفک کے لیے ایمنسٹی کے ڈائریکٹر سام ظریفی کا کہنا ہے: ’’حکومت نہ صرف جولائی دو ہزار نو کے واقعات کے بارے میں بولنے والوں کو دبا رہی ہے بلکہ وہ اپنی سرحدوں کے باہر بھی ان کی آوازیں دبانے کے لیے اثر و رسوخ استعمال کر رہی ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا: ’’گھٹن کا جو رجحان چین بھر میں دکھائی دیتا ہے، سنکیانگ میں اس کا کھلا مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے، جہاں ایغور آبادی اپنے ہی وطن میں اقلیت بن گئی ہے۔‘‘

دو برس قبل کے واقعات کے بارے میں غیر ملکی صحافیوں سے بات کرنے یا ایغور ویب سائٹس پر فسادات پر گفتگو کرنے والوں کو بھی گرفتار کیا گیا۔

China Jahrestag Unruhen in Xinjiang Polizei in Urumqi

علاقائی سکیورٹی بجٹ بھی بڑھایا گیا ہے

ظریفی کا کہنا ہے: ’’دو ہزار نو کے مظاہروں کی وجہ بننے والی شکایات کے حل کا یہ کوئی طریقہ نہیں کہ آزادی سے بولنے والے ہر ایغور کو نشانہ بنایا جائے۔‘‘

ان کا کہنا ہے: ’’چینی حکومت کو ایغور باشندوں کی شکایات سننا ہوں گی اور ان کے مطالبات پر کان دھرنے ہوں گے تاکہ ان کے حقوق کا احترام ہو اور ان کی ثقافت کو تحفظ فراہم ہو۔‘‘

خیال رہے کہ فسادات کے بعد سے چین نے سنکیانگ میں ترقیاتی منصوبوں اور بالخصوص ایغور شہریوں کے لیے ملازمتوں کے مواقع بڑھانے پر توجہ دی ہے۔ ساتھ ہی ارمچی میں نگرانی کے لیے چالیس ہزار کیمرے بھی لگائے گئے ہیں جبکہ علاقائی سکیورٹی بجٹ میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/ خبر رساں ادارے

ادارت: شامل شمس

DW.COM