1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سنکیانگ حملے، ذمہ دار مسلم انتہا پسند تنظیم

ترکستان اسلامک پارٹی نامی ایک جہادی گروپ نے سنکیانگ حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ اس عسکریت پسند تنظیم کی جانب سے انٹرنیٹ پر پوسٹ کردہ ایک ویڈیو میں یہ ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔

default

عسکریت پسند تنظیموں کی آن لائن اور دیگر سرگرمیوں پر نگاہ رکھنے والے ایک امریکی ادارے کے مطابق مغربی چین میں ہونے والے حملوں کی ذمہ داری ترکستان اسلامک پارٹی نامی ایک تنظیم نے قبول کی ہے۔

امریکی ادارے SITE گروپ کے مطابق مغربی چینی صوبے سنکیانگ کی خود مختاری کے لیے مسلح جدوجہد میں مصروف اس عسکریت پسند جماعت سے وابستہ جنگجو پاکستان میں قائم مضبوط پناہ گاہوں میں موجود ہیں۔ سکیورٹی مبصرین کے مطابق اس تنظیم کے جنگجوؤں کو تربیت القاعدہ نے دی ہے۔

Drei Tote bei Feuer in Bus in Shanghai

جولائی میں ہونے والی دہشت گردی میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے

سنکیانگ ترک نسل کے ایغور باشندوں کی اکثریت کا مرکز صوبہ ہے تاہم چین میں مجموعی طور پر ہان نسل کے باشندوں کی اکثریت کی وجہ سے ان ایغور مسلمانوں کو معاشی اور سماجی طور پر بے شمار مسائل کا سامنا ہے۔ دو برس قبل سنکیانگ کے دارالحکومت اُرمچی اور صوبے کے دیگر علاقوں میں ایغور اور ہان نسل کے باشندوں کے درمیان ہونے والے فسادات میں کم از کم 197 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تبھی سے اس پورے صوبے میں چینی سکیورٹی فورسز کی موجودگی اور خفیہ اداروں کی سرگرمیوں میں خاصا اضافہ ہوا ہے، تاہم ان تمام تر اقدامات کے باوجود عسکریت پسند رواں برس جولائی میں ہوتان اور کاشغر میں حملے کر کے درجنوں افراد کو ہلاک کرنے میں کامیاب رہے۔

اگست کے آخر میں ریلیز کی گئی دس منٹ سے زائد دورانیے کی اس ویڈیو میں ترکستان اسلامک پارٹی کے رہنما عبدالشکور دملا نے کہا کہ یہ حملے چینی حکومت سے بدلہ لینے کے لیے کیے گئے۔

اس تنظیم نے اس سے قبل سن 2008ء میں بیجنگ اولمپکس کے موقع پر بھی حملوں کی دھمکی دی تھی۔ امریکی ادارے SITE کے مطابق اس گروپ کی سرگرمیوں پر گہری نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس ادارے کی رپورٹ کے مطابق، ’بیجنگ اولمپکس کے موقع پر حملوں کی دھمکی دینے کے بعد ترکستان اسلامک پارٹی نظروں میں آئی تھی‘۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: مقبول ملک

DW.COM