1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سنکيانگ فسادات: عدالتی کارروائی اسی ہفتے شروع ہوگی

چين کے سرکاری میڈیا کے مطابق مغربی صوبے سنکيانگ ميں ہونے والے حاليہ فسادات ميں ملوث ہونے کے الزام ميں گرفتار کئے جانے والے دو سو سے زيادہ افراد پر اسی ہفتے کے دوران مقدمہ کی کارروائی شروع کی جائے گی۔

default

چینی صوبے سنکيانگ میں گزشتہ دنوں میں فسادات پھوٹ پرے تھے

چين کے صوبے سنکيانگ کے دارا لحکومت ارمچی ميں پانچ جولائی کو شديد ہنگامے شروع ہوئے تھے۔ یہ ہنگامے اس وقت شروع ہوئے جب ايغور مسلم اکثريت والے اس صوبے ميں ايغور مزدوروں کی ہلاکت کی تحقيقات اور انصاف کا مطالبہ کرنے کے لئے ايک جلوس نکالا گيا تھا، جس کے بعد ہنگامے شروع ہوئے ۔ اب ہنگاموں ميں ملوث ہونے کے الزام ميں مقدمات کی کارروائی شروع ہونے والی ہے۔

سخت حفاظتی انتظامات میں اس مقدمے کی سماعت سنکیانگ کے دارالحکومت ارمچی میں ایک پیپلز کورٹ کرے گی۔ ان ملزمان پر قتل ڈکيتی اور غنڈہ گردی کا الزام لگايا گيا ہ اور تعداد اس سے دوگنا سے بھی زيادہ ہے جس کا اعلان علاقائی وکيل استغاثہ نے کيا تھا۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ جن افراد پر فردجرم قائم کی گئی ہے ان ميں سے اکثر کا تعلق سنکيانگ کے صدرمقام ارمچی اور کاشغر سے ہے۔

China Xinjiang Uiguren Muslime

سنکيانگ کی زیادہ تر آبادی مسلم ہے

پوليس نے اس سال پانچ جولائی کو شروع ہونے والے فسادات ميں ملوث ہونے کے الزام ميں سات سو اٹھارہ افراد کو گرفتار کرليا تھا۔ سرکاری اعداو شمار کے مطابق ارمچی ميں ہونے والے ان فسادات ميں ايک سو ستانوے افراد ہلاک اور ايک ہزار چھ سو سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ ايغور جلا وطن تنظيموں کا کہنا ہے کہ فسادات ميں آٹھ سو کے قريب افراد ہلاک ہوئے جن ميں زیادہ تر ايغور تھے جنہيں پولیس نے فائرنگ يا تشدد کے ذريعے ہلاک کيا تھا ۔

گرفتار شدگان پر مظاہروں کی منصوبہ بندی ، منظم کرنے اور امن عامہ کو درہم برہم کرنے کے الزامات بھی ہيں۔ ايک چينی روزنامے کے مطابق ،رياست کو توڑنے کے الزام کے علاوہ بقيہ تمام مقدمات کی کارروائی کھلی عدالت ميں ہوگی۔

ايغور مسلم اکثريت والے چينی صوبے سنکیانگ کے دارا لحکومت ارمچی ميں جولائی کے فسادات اس خبر کے بعد شروع ہوئے تھے کہ ايک دوسرے صوبے ميں ہن چينيوں نے ايغور مزدوروں کو ہلاک کرديا تھا۔ اس پر ارمچی ميں ايغوروں نے ايک احتجاجی جلوس نکالا تھا۔ جلاوطن ايغور گروپوں کا کہنا ہے کہ جلوس پر امن تھا ليکن فسادات اس وقت شروع ہوئے جب پوليس نے مداخلت کی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ہنگاموں کا منصوبہ غيرملکی عليحدگی پسند قوتوں نے بناياتھا۔ علاقائی حکومت کے سربراہ نور بکری کا کہنا ہے کہ پوليس نے فساديوں پر اس وقت گولی چلائی جب انتباہی فائرنگ کا کوئی اثر نہيں ہوا۔

فسادات ميں ايغور وں نے ارمچی ميں ہن چننيوں اور پوليس پر حملے کئے تھے۔ اس کے دو دن بعد ارمچی کے ہن چينيوں نے ايغوروں پر جوابی حملے کئے تھے۔ ادھر چين ميں انٹرنيٹ پر فعال ايک ايغور الحام ٹوہٹی کو رہا کر ديا گيا ہے۔

رپورٹ: شہاب احمد صدیقی

ادارت: عدنان اسحاق