1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

سنڈیاں پیروں سے ’باتیں‘ کرتی ہیں

سائنسدانوں نے اپنی ایک نئی تحقیقی رپورٹ میں بتایا ہے کہ سنڈیاں اپنے درمیان رابطے کے لئے چلنے کا طریقہ استعمال کرتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق چلنے کے باعث پیدا ہونے والی آواز پیغام رسانی کے لئے استعمال ہوتی ہے۔

default

سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی یہ تازہ تحقیقی رپورٹ سنڈیوں کی ایک خاص قسم کے درمیان رابطوں کے مطالعے پر مبنی ہے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ سنڈیاں عمومی طور پر اپنی ٹانگوں کی حرکت سے آواز پیدا کر کے باہمی رابطے کا کام سرانجام دیتی ہیں۔

مطالعاتی ٹیم کے مطابق اس طریقے کے تحت ایک سنڈی دوسری سنڈی کو یہ بتاتی ہے کہ یہ پتا اس کا ہے اور وہ اسے مت کھائے۔ رپورٹ کے مطابق اس طریقےکو عمل میں لاتے ہوئے وہ بآسانی ایک دوسرے کو اپنی بات سمجھا دیتی ہیں۔

Gefräßige Kohlspanner Raupe

سنڈیاں اپنے پیروں کے بالوں کے ذریعے آواز پیدا کرتی ہیں

کیرلیٹن یونیورسٹی اوٹاوا، کینیڈا سے وابستہ اس مطالعاتی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر جینی یاک کے مطابق : ’’یہ بہت دلچسپ سنڈیاں ہیں، یہ اپنے بالوں کی مدد سے پیچیدہ ارتعاشی اشارے دیتی ہیں۔‘‘

جب کوئی دوسری سنڈی اس پتے پر آتی ہے، جس پر پہلے سے کوئی سنڈی موجود ہو اور یہ سنڈی اسے وہاں آنے سے روکنا چاہے تو بے ربط طریقے سے حرکت کی مدد سے ایک خاص طرح کی آواز پیدا کرتی ہے۔

’’جب یہ آواز پیدا ہوتی ہے تو اس پتے پر آنے والی سنڈی واپس لوٹ جاتی ہے۔‘‘

سائنسدانوں نے دوسری سپیشیز کی ایسے ہی سنڈیوں کا بھی مطالعہ کیا ہے۔ اس طرح ایک نیا ’’مالیکیولی شجرہ‘‘ بنایا گیا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق ایسی سنڈیاں، جن میں بالوں کے ذریعے ارتعاش پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی تو وہ دوسری سنڈی کی جانب چل کر آواز پیدا کرتی ہیں۔ تاہم ڈاکٹر یاک کے مطابق دیگر کئی سنڈیاں جو آواز پیدا کرنے کی کسی صلاحیت کی حامل نہیں ہوتیں، وہ پتّے پر آنے والی سنڈی پر حملہ کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ یعنی باہمی رابطے کی عدم موجودگی کے باعث وہ ایک دوسرے سے جھگڑ پڑتی ہیں۔

’’یہ اس جھگڑے میں ایک دوسرے کو ہلاک بھی کرسکتی ہیں۔ آواز پیدا کرنے کی صلاحیت کی حامل سنڈیاں اس باہمی رابطے کے ذریعے معاملات بغیر جھگڑے ہی نمٹا دیتی ہیں۔‘‘

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : شادی خان سیف