1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سندھ میں سیلاب، بے گھر افراد کی تعداد میں بڑے اضافے کا خدشہ

پاکستانی متاثرین سیلاب کی امداد میں مصروف بین الاقوامی اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سندھ میں جاری بارشوں کی وجہ سے بے گھر افراد کی تعداد میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہو سکتا ہے۔

default

پاکستان میں آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کے مطابق اس وقت 3 لاکھ سے زائد افراد امدادی کیمپوں میں مقیم ہیں جن میں 78 ہزار سے زیادہ عورتیں اور ایک لاکھ 40 ہزار بچے بھی شامل ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ بے گھر افراد کو عارضی پناہ گاہیں مہیا کرنے میں مصروف مہاجرت کی بین الاقوامی تنظیم (آئی او ایم ) کے مطابق حکومتی درخواست پر سندھ کے بارش سے زیادہ متاثر ہونیوالے اضلاع میں 17 ہزار نان فوڈز آئٹمز یعنی عارضی خیمے، ترپال، پلاسٹک شیٹس، کچن کا سامان اور کمبل وغیرہ بھجوا دیے گئے ہیں۔ آئی او ایم کے انفارمیشن آفیسر رحمت سلیم نے بتایا کہ سندھ میں جاری بارشوں کے سبب بے گھر افراد کی تعداد موجودہ 3 لاکھ افراد سے کہیں زیادہ بڑھنے کا خدشہ ہے۔

حالیہ بارشوں کے سبب سندھ میں 29 ہزار سے زائد دیہات متاثر ہوئے ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد 226 ہو گئی ہے

حالیہ بارشوں کے سبب سندھ میں 29 ہزار سے زائد دیہات متاثر ہوئے ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد 226 ہو گئی ہے

انہوں نے کہا: ’’ ہم نے 10 اور 11 ستمبر کو حکومت کی درخواست پر فوری ضروریات کا اندازہ لگانے کا کام شروع کیا اور اس میں ہم نے تقریباً 1500 ایسے مقامات کا دورہ کیا ہے جہاں بے گھر ہونے والے افراد موجود ہیں لیکن خدشہ یہ ہے کہ کیونکہ ابھی بارشیں چل رہی ہیں اس لیے بے گھر افراد کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔‘‘

این ڈی ایم اے کی طرف سے بدھ کو جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق حالیہ بارشوں کے سبب سندھ میں 29 ہزار سے زائد دیہات متاثر ہوئے ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد 226 ہو گئی ہے۔ ادھر اقوام متحدہ کی اسلام آباد میں ایک ترجمان عشرت رضوی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یو این پاکستان میں حالیہ بارشوں سے ہونیوالی تباہی سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی امداد کی اپیل کرنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔

بارشوں کے سبب بے گھر افراد کی تعداد موجودہ 3 لاکھ افراد سے کہیں زیادہ بڑھنے کا خدشہ ہے

بارشوں کے سبب بے گھر افراد کی تعداد موجودہ 3 لاکھ افراد سے کہیں زیادہ بڑھنے کا خدشہ ہے

امدادی اداروں کے مطابق ناکافی رقم کے سبب انہیں ریلیف آپریشن میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے نمائندے امجد جمال نے بتایا:’’ چونکہ یہ ایک زندگیاں بچانے والا امدادی آپریشن ہے تو ہمارے پاس گنجائش ہوتی ہے کہ ہم اپنے ریگولر پروگرامز میں سے موجود ذخائر کو متحرک کریں اب ظاہر ہے ان ذخائر کے ختم ہونے کے بعد ہمیں مزید فنڈنگ کی ضرورت ہوگی، جس کے لیے ہم پہلے ہی ڈونرز کے ساتھ رابطے میں ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ نئے امدادی آپریشن کے لیے وسائل اکٹھے کیے جا سکیں۔ اس لیے یقیناً ہمیں نئے عطیات کی ضرورت ہے۔‘‘

ادھر محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران سندھ اور بلوچستان کے بعض مقامات پر مزید بارشوں کا امکان ہے۔ دریں اثناء صدر آصف علی زرداری نے عوام سے اپیل بھی کی کہ وہ بدھ کو نماز ظہر کے بعد صوبہ سندھ میں بارشوں کے رکنے اور پنجاب میں ڈینگی وائرس سے متاثرہ افراد کی صحت یابی کے لیے دعا کریں۔

رپورٹ: شکور رحیم ، اسلام آباد

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس