1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سندھ میں جرائم کے خلاف فرانزک لیب کا کردار

انسپکٹر جنرل سندھ پولیس کہتے ہیں کہ مقدمات کی تفتیش میں روایتی طریقوں کی بجائے جدید تکنیک اہم کردار ادا کرتی ہے اور سندھ پولیس کے فرانزک ڈویژن کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا سہرا جرمنی اور آسٹریلیا کے سر جاتا ہے۔

ڈوئچے ویلے کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے آغاز تک سندھ پولیس میں فرانزک سائنس سے مستفید ہونے کا صرف تصور موجود تھا لیکن عملی طور پر اس میدان میں پولیس کو جدید خطوط پر استوار کرنے والا پہلا ملک جرمنی ہے، جس نے اس حوالے سے سندھ پولیس کی نہ صرف تربیت مہیا کی بلکہ جدید قیمتی آلات بھی فراہم کیے۔

آئی جی سندھ کے مطابق اس وقت سندھ پولیس کا فرانزک لیب پاکستان بھر میں پولیس کی ایک جدید لیب ہے جو نہ صرف دہشت گردی کے مقدمات بلکہ دیگر جرائم کی تفتیش میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ جرمنی کے تعاون سے اب ڈویژن کے پاس اپنی موبائل لیب بھی ہے، جس کے ذریعے کسی بھی جائے وقوعہ پر پہنچ کر شواہد کو محفوظ کیا جا سکتا ہے اور اس کے ذریعے فنگر پرنٹس کا جانچ پڑتال بھی کی جاتی ہے۔ اسی لیب کی مدد سے پولیس یہ معلوم کر سکی ہے کہ نہ صرف کراچی بلکہ سندھ بھر میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات میں ملوث گروہوں کی تعداد مخصوص ہے مثلا گزشتہ برس سے اب تک کراچی میں فائرنگ کر کے پولیس اور رینجرز کے علاوہ فوجی جوانوں کو قتل کرنے والا ایک ہی گروہ ہے اور اس کا انکشاف جائے وقوعہ سے ملنے والی گولیوں کے خول سے ہوا۔ یہ رپورٹ فرانزک ڈویژن کے لیب نے تیار کی تھی۔

Pakistan Karatschi Polizei Forensic Mobile Station

جرمنی کے تعاون سے اب ڈویژن کے پاس اپنی موبائل لیب بھی ہے، جس کے ذریعے کسی بھی جائے وقوعہ پر پہنچ کر شواہد کو محفوظ کیا جا سکتا ہے

گزشتہ برس صفورا میں بس پر فائرنگ کے بعد ملنے والی گولیوں کے خول اور گرفتاری کے بعد ملزمان سے برآمد ہونے والے ہتھیاروں کا بھی فرانزک لیب میں تجزیہ کیا گیا اور پولیس کو رپورٹ کے صورت میں ایک ایسا ٹھوس ثبوت حاصل ہوا، جس کے دنیا کی کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔

سندھ پولیس میں فنڈز کی خرد برد سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال پر سندھ پولیس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ان سے پہلے ایسے معاملات ہوئے ہیں جن کی وفاقی تحقیقاتی ادارے تحقیقات کر رہے ہیں اور سپریم کورٹ نے بھی اس حوالے سے نوٹس لیا ہے مثلا سی سی ٹی وی کمیروں کی خریداری میں ہونے والے گھپلوں کا معاملہ آج کل عدالت میں زیر سماعت ہے، ’’میں نے سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران واضح الفاظ میں یہ بات کہی ہے کہ مجھے نہ تو کیمروں کی خریداری کا کوئی تجربہ ہے، نہ تنصیب کا اور نہ ہی میں اپنے ماتحت افسران کو اس میں ملوث کرنا چاہتا ہوں۔ ہم بتائیں گے کہ ہمیں کہاں کیمرے درکار ہیں، کس معیار کے کیمرے درکار ہیں مگر اس پورے نیٹ ورک کے کنٹرول رومز کوکس نے بنانا ہے، کس نے خریدنا ہے یہ پولیس کا کام نہیں ہے اور نہ ہی اس کی مرمت پولیس کی ذمہ داری ہے۔ لہذا یہ ذمہ داری سندھ حکومت نے اٹھائی ہے اور سپریم کورٹ کو یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ قوانین کے تحت نجی کمپنی سے شفافیت برتتے ہوئے معاہدہ کیا جائے گا اور کمپنی ہی کیمروں کی تنصیب اور مرمت کا کام کرے گی البتہ ماضی کے نقصانات کے ازالے کے حوالے سے ذرائع ابلاغ میں بات کرنا درست نہیں اس کام کے لئے ادارے موجود ہیں۔

Pakistan Karatschi Polizei Forensic Mobile Station

آئی جی سندھ کے مطابق اس وقت سندھ پولیس کا فرانزک لیب پاکستان بھر میں پولیس کی ایک جدید لیب ہے

پولیس آرڈر دو ہزار دو کی افادیت اور عملدرآمد کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر آئی جی سندھ نے کہا کہ اس وقت جس قانون اور ضابطے کے تحت پولیس کام کر رہی ہے، وہ پرانے دور کے معروضی حالات کو سامنے رکھ کر بنایا گیا تھا مگر یہ قانون دو ہزار سولہ میں قابل عمل نہیں ہے۔ الٹا اس کے منفی اثرات پولیس کے ادارے اور اس کی کارکردگی پر پڑ رہے ہیں، ’’ گزشتہ برسوں میں ٹیکنالوجی میں جو جدت ہوئی ہے اس کے باعث دو ہزار دو کا قانون مستقبل کے تقاضوں کے مطابق ہے خیبر پختون خواہ پولیس کے لئے ایک نیا قانون متعارف کروایا گیا ہے جو دو ہزار دو سے بھی مزید بہتر ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کے پورے ملک کی پولیس ایک ہی قانون کے تحت چلے تاکہ ان میں باہمی رابطے بھی ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امن و امان کا معاملہ صوبائی ہے لیکن اس کے لئے پورے ملک کا قانون ایک ہو سکتا ہے اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔‘‘

سندھ میں کالعدم تنظیموں کے سلیپر سیلز کے حوالے سے آئی جی سندھ پولیس نے جواب دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ اس صوبے میں بھی مذہبی اور سماجی حالات پورے ملک کی طرح ہیں اور ان کے اثرات سندھ پر بھی باقی صوبوں کی طرح ہی پڑتے ہے، ’’جن سلیپر سیلز کا ذکر آپ نے کیا وہ کوئٹہ، پشاور اور رحیم یار خان کی طرح اندرون سندھ اور کراچی میں بھی ہیں۔ لہذا ایسے افراد کچھ عرصے بعد دہشت گردی کی وارداتیں کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ملک سے مکمل طور پر دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہوا۔ کیونکہ ہم ایک نظریے کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، نظریے کے ساتھ دو چار لوگ نہیں ہوتے، جن کو آپ ختم کر دیں تو معاملات ٹھیک ہو جائیں مگر ادارے پرعزم ہیں اور اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھنکا جائے گا۔‘‘