1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سندھ میں انتظامی تقسیم کا معاملہ اور سیاسی کھینچا تانی

پاکستان میں صوبوں کی انتظامی بنیادوں پر تقیسم کی تحاریک ایک بار پھر سے زور پکڑنے لگی ہیں اور حکومت کی جانب سے پہلے اس ضمن میں اقدامات کے اعلان اور پھر اُن کی واپسی نے اس ’مردہ گھوڑے‘ میں مزید جان ڈال دی ہے

default

تیرہ جولائی کو حکومت سندھ کی جانب سے انتہائی عجلت میں کمشنری نظام کو بحال کیا گیا تھا اور حکومت کے تمام وزراء، مشیر اور انتظامی مشینری اس حکومتی فیصلے کے دفاع میں جُت گئے۔ مگر کمشنری نظام کے سقم نہ چھپا سکیں۔ سندھ اسمبلی میں صرف دو نشستوں اور صوبائی کابینہ میں ایک وزیر کی حامل حکومتی اتحادی جماعت عوامی نیشنل پارٹی نے کمشنری نظام کی بحالی کے لیے پیپلزپارٹی کا نہ صرف اسمبلی بلکہ اسمبلی سے باہر بھی بھرپور ساتھ دیا۔ تاہم سندھ کے شہری علاقوں میں 80 فیصد آبادی کی ترجمان ہونے کا دعویٰ کرنے والی متحدہ قومی موومنٹ اپنے موقف پر قائم رہی۔

بات حکومت سے علیٰحدگی اور سندھ کی گورنر شپ سے استعفوں تک پہنچ گئی اور پھر دبے لفظوں میں نئے صوبے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ رہی سہی کسر کراچی میں جاری بد امنی نے پوری کردی ، جس میں ایک ماہ سے بھی کم مدت میں تقریباً 500 افراد کی جانیں ضائع ہوئیں۔

ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی خاص قوتیں میدان میں آئیں، بیرون ملک سیاسی ملاقاتیں ہوئیں اور سب پھر سے ’بھائی بھائی‘ ہوگئے۔ نتیجہ یہ کہ حکومت نے ایم کیو ایم کا مطالبہ مان کر کراچی اور حیدر آباد میں کمشنری نظام کو ختم کر کے ضلعی حکومتوں کو بحال کردیا۔

Pakistan Politik Koalition

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سابقہ دورہء کراچی میں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے رہنماوں کے ہمراہ، فائل فوٹو

لیکن جب عوامی نیشنل پارٹی اور سندھی قوم پرستوں نے اس فیصلے کو سندھ کی تقسیم سے تعبیر کر کے ہڑتال اور احتجاج کا سلسلہ شروع کیا تو ماہرین کے بقول بظاہر پیپلز پارٹی کو یہ خیال آیا کہ یہی ناخوش عناصر تو وہ قوم پرست ہیں جو آڑے وقت میں اسے سندھ کارڈ کھیلنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ لہٰذا پورے صوبے میں کمشنری نظام کی بساط بھی لپیٹ دی گئی اور قوم پرست اس پر بھی ناخوش ہیں۔ قوم پرست رہنما قادر مگسی کا کہنا ہے جو بھی سیاست دان اس قانون کے حق میں رائے دے گا، وہ سندھ کا ’غدار‘ کہلائے گا۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی کو پنجاب میں شروع کردہ ’سرائیکی صوبے کا کھیل‘ بھی مہنگا پڑتا دکھائی دیتا ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ کی مشیر شرمیلا فاروقی تسلیم کرتی ہیں کہ بلدیاتی نظام کی بحالی کے فیصلے سے پیپلز پارٹی کو سیاسی نقصان ہوا ہے ، ’’اندرون سندھ لوگ یہ کہنے لگے ہیں کہ پی پی نے گھٹنے ٹیک دیے اور سندھ کی تقسیم ہونے لگی ہے وغیرہ۔‘‘

مبصرین کی رائے میں پیپلز پارٹی کے رہنما بابر اعوان اس مرتبہ ’دوست نما دشمن‘ کا کردار ادا کررہے ہیں۔ ماہرین کے بقول بابر اعوان نے جس انداز میں نواز لیگ سے مخالفت مول لے رکھی ہے، وہ پیپلز پارٹی کو آئندہ انتخابات میں ناقابل تلافی نقصان سے دوچار کرسکتی ہے۔

رپورٹ:رفعت سعید، کراچی

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM