1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سندھ حکومت سے علیحدگی بھی ممکن، ایم کیو ایم

الطاف حسین کی جانب سے اتوار کی رات ایم کیو ایم کے وفاقی حکومت سے علیحدگی اور قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی نشستوں پر بیٹھنے کے اعلان نے سرد موسم میں پاکستان کے سیاسی ماحول کو بہت گرما دیا ہے۔

default

متحدہ قومی موومنٹ کے ایک جلسے کے شرکاء

اس تناظر میں پاکستانی سیاست کے حوالے سے اندرون ملک اور بیرون ملک سے کس طرح کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔لندن میں مقیم ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے رات بھر مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین سے رابطے کئے مگر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے سے متعلق ان جماعتوں کے درمیان کوئی اتفاق نہ ہوسکا۔

ادھر وزیر اعظم گیلانی صبح سے شام تک اپنی حکومت بچانے کے لیے کبھی شہباز شریف کے پاس گئے تو کبھی مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت حسین کے گھر پہنچ گئے۔ باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ مستقبل کا فیصلہ مسلم لیگ ن کے ہاتھوں میں ہے۔ مگر مسلم لیگ نواز کسی سیاسی جماعت کے ذریعے، بشمول ایم کیو ایم، وزیر اعظم گیلانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر آمادہ نہیں ہے۔

ایم کیو ایم کے مرکزی رہنما حیدر عباس رضوی کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت سندھ میں بھی حکومت سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کر سکتی ہے۔تاہم ان کے لب و لہجے سے یہ تاثر نمایاں ہے کہ وہ دیگر جماعتوں کی طرح حکومت کے مستقبل کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ کرنے سے گریزاں ہیں۔

ایم کیو ایم کے ایک اور رہنما فیصل سبزواری کا کہنا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ صوبائی وزیر داخلہ سے اختلاف کو بھلا کر صرف مہنگائی اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافےپر حکومت سے نالاں ہے اور حکومت سے علیحدہ ہونے کی ایک بڑی وجہ خراب معاشی پالیسیاں ہیں۔

Pakistan Ministerpräsident Yousaf Raza Gillani

وزیر اعظم گیلانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد اصولی طور پر ممکن

مبصرین کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم بیک وقت حزب اختلاف اور حزب اقتدار دونوں کے مزے کرنا چاہتی ہے۔ اس جماعت کو مہنگائی کا خیال اس سے قبل کیوں نہیں آیا؟ صرف عوامی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے ایم کیو ایم اب تین سال گزرنے کے بعد حکومت سے اپنی جان چھڑانا چاہتی ہے۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن کے سیکریٹری اطلاعات احسن اقبال نے ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں حالیہ سیاسی بحران کی وجہ پیپلز پارٹی کا داخلی انتشار ہے۔ ان کی جماعت غیر فطری طریقے سے حکومت کے خاتمے میں کوئی کردار ادا نہیں کرے گی کیونکہ اس اقدام سے پہلے سے ناکام قیادت شہید اور مظلوم بن کر زندہ ہوجائے گی۔

احسن اقبال نے الزام عائد کیا کہ ایوان صدر صورت حال کو اتحادی جماعتوں کے ذریعے وزیر اعظم کو تبدیل کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ ملک کی تشویشناک سیاسی صورت حال کے پیش نظر صدر مملکت آصف زرداری گذشتہ کئی روز سے کراچی میں مقیم ہیں۔ وہ مسلسل وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کے ذریعےایم کیو ایم سے رابطے کر رہے ہیں مگر ابھی تک صدر زرداری اور ایم کیو ایم کے درمیان کوئی براہ راست رابطہ ممکن نہیں ہوسکا۔

سیایس مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی سیاست میں فوج اور خفیہ اداروں کا کردار بہت اہم ہے۔ تمام ہی سیاسی جماعتیں اپنی حتمی پالیسی ان کے مشورے سے ہی طے کرتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ ق، مولانا فضل الرحمان اور ایم کیو ایم اب تک کسی واضح حکمت عملی کے ساتھ سامنے نہیں آ رہے کیونکہ نواز شریف کی جلاوطنی کے خاتمے کے بعد سے سیاست میں فوجی مداخلت کے بڑے ناقد رہے ہیں۔

سیاسی ماہرین کی رائے میں حکومت سے اتحادیوں کی علیحدگی اور سیاست میں بڑھتی ہوئی گرما گرمی کے پش منظر میں ایک مرتبہ وہی قوتیں نظر آرہی ہیں جو ماضی میں بھی سرگرم رہی ہیں۔ ایسی صورت حال میں وزیر اعظم گیلانی مسلسل دباؤ کا شکار رہیں گے، حالانکہ صدر مملکت کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے بھی کہا ہے کہ صدر زرداری وزیر اعظم گیلانی پر مکمل اعتماد کرتے ہیں۔

رپورٹ: رفعت سعید، کراچی

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس