1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سموگ میں خطرناک حد تک اضافہ، نئی دہلی میں پرائمری اسکول بند

نئی دہلی کی ہوا میں آلودگی کی شرح میں ’خطرناک حد‘ تک اضافے کے باعث پبلک ہیلتھ کے شعبے میں ایمرجنسی کا نفاذ کر دیا گیا ہے۔ ’سموگ‘ میں اضافے کے نتیجے میں پرائمری اسکولوں کو بھی عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بھارتی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ’سموگ‘ کی شرح میں خطرناک حد تک اضافے کے باعث شہر بھر میں طبی سطح پر ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔ محمکہ صحت سے وابستہ ماہرین نے شہریوں کو تاکید کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

لاہور کے شہری اتنی تیزی سے بیماریوں کا شکار کیوں؟

آلودگی سے لاکھوں اموات، پاکستان بھی متاثرہ ممالک میں شامل

’سمندروں کا تحفظ ازحد ضروری ہے‘

ویڈیو دیکھیے 00:50

سموگ کیا ہے؟

اس صورتحال میں بچوں اور عمر رسیدہ افراد کو زیادہ محتاط رہنے کی ہدایات کی گئی ہے۔ ہوا میں ’سموگ‘ یا آلودہ دھند کے باعث نئی دہلی کے اسکولوں کو عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مقامی حکام نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ کچھ دنوں میں آلودگی کی اس شرح میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن نے پیر کے دن ہی مطالبہ کیا تھا کہ فضا میں ضرر رساں ذرات میں اضافے میں کمی کی خاطر فوری طور پر اقدامات اٹھائے جائیں۔ طبی اور شہری حلقوں کی طرف سے تحفظات کے بعد نئی دہلی کے نائب وزیرا علیٰ منیش سیسوڈا نے سات اکتوبر کو اعلان کیا کہ بدھ کے دن پرائمری اسکول بند رہیں گے اور دیگر تعلیمی اداروں میں صبح کی اسمبلیاں منعقد نہیں کی جائیں گی۔ سن دو ہزار پندرہ کے حکومتی اعدادوشمار کے مطابق نئی دہلی میں تقریبا دو ملین بچے پرائمری اسکولوں میں رجسٹرڈ ہیں۔

 ڈاکٹروں کی تنظیم انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن  نے بتایا نئی دہلی کے باسیوں کو آنکھوں میں جلن اور حلق میں تکلیف کی شکایت کا سامنا ہے، جس کی وجہ شہر کی فضا میں مضر صحت ذرات کی موجودگی میں خطرناک حد تک اضافہ بنا ہے۔ گزشتہ برس عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک جائزہ کے مطابق نئی دہلی دنیا کے آلودہ ترین شہروں مں سے ایک ہے۔

دوسری طرف پاکستان کے کئی شہروں میں بھی سموگ میں اضافے کی وجہ سے شہری پریشانی کا شکار ہیں۔ اسلام آباد، لاہور اور ملتان کے علاوہ کئی شہروں میں ہوا میں آلودگی کی شرح میں اضافے سے بالخصوص بچوں اور برزگوں کو سانس اور آنکھوں میں تکلیف کی شکایات کی جا رہی ہیں۔

جنوبی ایشیا میں ماحولیاتی آلودگی کی یہ شرح ایک ایسے وقت میں زیادہ ہوئی ہے، جب جرمن شہر بون میں عالمی ماحولیاتی کانفرنس COP 23 کا آغاز ہو چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام جاری اس اجلاس میں 195 ممالک کے پچیس ہزار سے زائد افراد شریک ہیں، جو پیرس کلائمٹ ڈیل کے تحت کیے جانے والے وعدوں پر عملدرآمد کے لیے ایک عالمی حکمت عملی ترتیب دینے کی کوشش کریں گے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic

ملتے جلتے مندرجات