1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سمندر کے نیچے روس سے ترکی تک گیس پائپ لائن کی تعمیر شروع

روس کی سرکاری گیس کمپنی گیس پروم کے مطابق روس سے ترکی تک بحیرہ اسود کے نیچے گیس کی ایک طویل پائپ لائن بچھانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ اس طرح ممکنہ طور پر روسی گیس یورپی یونین کو بھی فراہم کی جا سکے گی۔

روسی دارالحکومت ماسکو سے پیر آٹھ مئی کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق گیس پروم کے جاری کردہ ایک بیان میں اتوار سات مئی کی رات بتایا گیا کہ ٹَرک سٹریم (TurkStream) نامی اس گیس پائپ لائن منصوبے کے تحت روسی گیس بحیرہ اسود کے پانیوں کے نیچے سے ترکی تک پہنچائی جائے گی اور روسی ساحل کے قریب اس پائپ لائن کی تعمیر شروع کر دی گئی ہے۔

گیس پروم کے سربراہ الیکسی مِلر کے مطابق یہ تاریخی منصوبہ 2019ء کے آخر تک مکمل ہو جائے گا اور تب روس کی یہ برآمدی گیس ترکی اور ممکنہ طور پر یورپی یونین کے رکن ملکوں کو دستیاب ہو سکے گی۔

پوٹن ایردوآن ملاقات، ساری کدُورتیں جاتی رہیں

امریکا اور روس کے بیچ ترکی ’سینڈوِچ‘ بنتا ہوا

ترکی میں تعینات روسی سفیر قاتلانہ حملے میں ہلاک

اے ایف پی کے مطابق روسی حکومت نے پہلی بار یہ منصوبہ 2014ء میں پیش کیا تھا لیکن تب یوکرائن کے بحران کے عروج پر یورپی یونین نے اس پروجیکٹ کا راستہ روک دیا تھا۔ تب ماسکو نے کہا تھا کہ یہ پائپ لائن بحیرہ اسود کے نیچے سے گزار کر یورپی یونین کے رکن ملک بلغاریہ تک بچھائی جائے گی۔

Karte Schwarzes Meer (AP Graphics)

پھر روس نے یہی گیس پائپ لائن بحیرہ اسود کے نیچے سے ترکی تک بچھانے کا ارادہ کیا تھا لیکن ترک فضائیہ کی طرف سے ایک روسی طیارے کے ترکی اور شام کے درمیان سرحدی علاقے میں مار گرائے جانے کے بعد ماسکو اور انقرہ کے تعلقات میں شدید کشیدگی کے باعث اس پر عمل درآمد ملتوی کر دیا گیا تھا۔

اب جب کہ روس اور ترکی کے معمول کے تعلقات بحال ہو چکے ہیں، روس اس پائپ لائن کے ذریعے سالانہ قریب 16 بلین کیوبک میٹر گیس اپنے ساحلی علاقے سے ترکی تک پہنچانا چاہتا ہے۔ یہ بات تاہم واضح نہیں کہ آیا یورپی یونین یوکرائن ہی کے بحران کی وجہ سے روسی گیس پائپ لائن کے اس نئے روٹ کی حمایت کر دے گی۔

DW.COM