1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

سمندر میں ڈوبنے سے بچے تو دریا میں ڈوب گئے

ترکی سے بحیرہ ایجیئن کا خطرناک سمندری راستہ طے کرنے کے بعد دو خواتین سمیت تین افغان تارکین وطن یونان پہنچے تو مقدونیہ کی سرحد بند ہو چکی تھی۔ متبادل راستوں سے مغربی یورپ پہنچنے کی کوشش میں دریا میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق متبادل راستوں کے ذریعے یونان سے مقدونیہ جانے کی کوشش میں تین افغان تارکین وطن دریا میں ڈوب گئے۔ مقدونیہ کے حکام کو ان تین پناہ گزینوں کی لاشیں پیر چودہ مارچ کے روز علی الصبح ملی ہیں۔

درجنوں پاکستانی تارکین وطن کی یونان سے ترکی ملک بدری

رضاکارانہ طور پر واپس جاؤ، بائیس سو یورو ملیں گے

مقدونیہ کی وزارت داخلہ کی خاتون ترجمان کے مطابق دریا میں ڈوب کر ہلاک ہونے والے تینوں تارکین وطن افغان شہری ہیں اور ان میں ایک حاملہ خاتون، اس کی نوجوان بہن اور ایک افغان مرد شامل ہیں۔

علاوہ ازیں مقدونیہ کے حکام نے غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے کی کوشش کرنے والے انیس تارکین وطن کو حراست میں لے کر قریبی کیمپ میں منتقل کر دیا جب کہ چار زخمی تارکین وطن کو ہسپتال بھیج دیا گیا۔ ان تمام پناہ گزینوں کا تعلق بھی افغانستان سے ہے۔

نیوز ایجنسی اے پی کی رپورٹوں کے مطابق آج دوپہر یونان کے ایڈومینی مہاجر کیمپ سے ایک ہزار کے قریب تارکین وطن مقدونیہ میں داخل ہونے کے متبادل راستوں کی تلاش میں نکلے تھے۔

سرحد کی بندش کے باوجود تین سو کے قریب پناہ گزین زبردستی مقدونیہ کی حدود میں داخل ہو گئے۔ یونانی اور مقدونیہ کے سرحدی محافظوں نے ان میں سے زیادہ تر کو حراست میں لے کر واپس یونان بھیج دیا ہے۔

یونان اور مقدونیہ کے مابین سرحد بند ہونے کے بعد سے ہزاروں تارکین وطن یونان میں پھنسے ہوئے ہیں۔ سرحد کے قریب ایڈومینی کے کیمپ میں چودہ ہزار سے زائد تارکین وطن مغربی یورپ کی جانب اپنا سفر جاری رکھنے کی امید میں رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں۔

ایڈومینی کیمپ کی خیمہ بستیوں میں رہنے والے تارکین وطن بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ خراب موسم اور مسلسل بارش نے اس صورت حال کو مزید ابتر کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے ترجمان بابر بلوچ نے ایڈومینی کیمپ میں مقیم تارکین وطن کی صورت حال کو ’انسانی المیے کی انتہا‘ قرار دیا ہے۔

DW.COM