1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سمندر میں مہاجرین نہیں انسانیت ڈوبی ہے، ایردوآن

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے مہاجرین کے مسئلے کے حوالے سے یورپ کے رویے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے ترکی کے ساحل کے قریب 12 مہاجرین کے ڈوب کر ہلاک ہونے کو انسانیت کے ڈوبنے سے تشبیہ دی۔

بدھ دو ستمبر کو ترکی کے ساحل کے قریب دو کشتیاں ڈوبنے کے نتیجے میں 12 مہاجرین ہلاک ہو گئے تھے۔ ان ہلاکتوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ایردوآن کا کہنا تھا کہ ان کی ہلاکت کی ذمہ داری مغربی اقوام پر بھی عائد ہوتی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں دیگر بچوں کے علاوہ تین سالہ ایلان کُردی بھی شامل تھا، جس کی لاش جمعرات کی صبح ترکی کی ایک ساحل سے ملی تھی۔ دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں چپھنے والی اس ننھے بچے کی تصویر نے عالمی سطح پر مہاجرت کے مسئلے پر بحث کو ایک نیا رُخ دے دیا ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے مطالبہ کیا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک خاص طور پر یورپ انسانی زندگی اور خوابوں کے حوالے سے زیادہ حساسیت دکھائے۔ ایردوآن کے مطابق، ’’یہ صرف مہاجرین نہیں ہیں جو بحیرہ روم میں ڈوبے، یہ انسانیت ڈوبی ہے، انسانیت۔‘‘

ایردوآن کا کہنا تھا کہ اس وقت ترکی میں دو ملین سے زائد مہاجرین پناہ لیے ہوئے ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں ’’کئی گنا زیادہ خوشحال مغربی ممالک‘‘ مجموعی طور پر محض دو لاکھ کے قریب مہاجرین کی میزبانی کر رہے ہیں۔

ایردوآن کا کہنا تھا کہ ہلاکتوں کی ذمہ داری مغربی اقوام پر بھی عائد ہوتی ہے

ایردوآن کا کہنا تھا کہ ہلاکتوں کی ذمہ داری مغربی اقوام پر بھی عائد ہوتی ہے

دنیا کے 20 معاشی طور پر طاقتور ممالک جی ٹونٹی کے وزرائے خزانہ کے اجلاس سے ایک روز قبل ترک دارالحکومت انقرہ میں کاروباری رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے ایردوآن کا کہنا تھا، ’’میں تمام ترقی یافتہ ممالک سے مطالبہ کرتا ہوں، خاص طور پر یورپ سے، کہ وہ انسانیت کے حوالے سے زیادہ حساسیت کا مظاہرہ کریں۔‘‘

دوسری طرف ترک وزیر اعظم احمد داؤد اولُو نے کہا ہے کہ ترکی مہاجرین کے لیے اپنے دروازے بدستور کھلے رکھے گا۔ ان کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں یورپی ممالک سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ بھی اس ذمہ داری کو بانٹنے میں مدد کریں۔ شام میں گزشتہ چار برس سے جاری خانہ جنگی کے باعث گھر بار چھوڑنے والے قریب 20 لاکھ شامی مہاجرین ترکی میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ بہت سے ایسے مہاجرین جو یورپ پہنچنا چاہتے ہیں، وہ بھی ترکی ہی کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔