1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

سمندری پانی، پینے کے قابل کیسے بنایا جاتا ہے

22 مارچ کو ورلڈ واٹر ڈے منایا گیا ہے اور اس موقع پر جاری اعداد وشمار کے مطابق دنیا کی تقریبا آدھی آبادی پینے کے صاف پانی کے حوالے سے مسائل کا شکار ہے۔

default

دنیا بھر میں پینے کے صاف پانی کی قلت کی وجہ سے سمندری پانی کو قابل استعمال بنانے کے سستے طریقے کارآمد ثابت ہو رہے ہیں

سمندر کا پانی جو کہ سیارہ زمین کا بڑا حصہ ہے نمکیات کی وجہ سے پینے اور زراعت وغیرہ کے لئے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن سمندر کے پانی کو ایک خاص پراسیس کے ذریعے پینے کے قابل بنایا جاسکتا ہے، جسے ڈی سیلینیشن پراسیس کہا جاتا ہے۔

ڈی سیلینیشن ایک ایسا پراسیس یا طریقہ کار ہے جس میں پانی میں حل شدہ نمکیات کو علیحدہ کرکے اسے پینے، ذراعت یا صنعتی استعمال کے قابل بنایا جاتا ہے۔ سمندر کے پانی سے نمکیات علیحدہ کرکے پینے کے قابل بنانے کے لئے جو مختلف طریقے استعمال کئے جاتے ہیں ان میں تین اہم پراسیس

تھرمل ڈسٹیلیشن یا ایواپوریشن، الیکٹروڈائیلیسس اور ریورس اوسموسس ہیں۔

18.07.2006 projekt zukunft fragezeichen

یہ ہے وہ سوالیہ نشان، جسے آپ کو تلاش کرنا تھا۔ براہ کرم آج کی تاریخ04/02. اور کوڈ نمبر 2127 ہمیں ای میل اور ایس ایم ایس کے ذریعے بھیج دیجئے۔

ان میں سے سب سے پرانا طریقہ ڈسٹی لیشن یا بخارات کے ذریعے صاف پانی کو علیحدہ کرنا ہے۔ سمندری پانی کو ایک بڑے کنٹینر میں اتنا گرم کیا جاتا ہے کہ وہ بھاپ یا بخارات میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ جس سے نمکیات کنٹینر کی سطح پر ہی رہ جاتے ہیں۔ پھران بخارات کو Condense یعنی ٹھنڈا کرکے ایک علیحدہ کنٹینر میں جمع کرلیا جاتا ہے۔ ڈسٹی لیشن کا طریقہ گو کہ بہت پرانا ہے مگر چونکہ اس پراسیس میں پانی کو بخارات میں بدلنے کے لئے بڑی مقدار میں ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے اس طریقہ کار کا استعمال محدود ہی ہے۔ البتہ بڑے پیمانے پر استعمال اور ایندھن کی بچت کے لئے اسکے ساتھ دیگر طریقے استعمال کئے جاتے ہیں مثلا پانی کے نقطہ کھولاؤ یا بوائلنگ پوائنٹ کو کم کرنے کے لئے کنٹینر میں ویکیوم پیدا کردیا جاتا ہے جس سے پانی جلد بخارات میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ جبکہ دوسرا طریقہ فوری بخارات میں تبدیلی یا Flash Evaporation ہے۔ اس میں بہت ہی گرم سطح پر پانی کا سپرے کیا جاتا ہے یا پھر پانی کی بہت ہی پتلی لیئر کو اس سطح پر ڈالا جاتا ہے جس سے پانی فوری طور پر بخارات میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ پانی کو اس طرح کئی مرتبہ ٹھنڈا کرکے اس عمل سے گزارا جاتا ہے جس سے پینے کے لئے بالکل صاف پانی حاصل ہوتا ہے۔ یہ Multi Stage Distillation طریقہ کار دنیا بھر میں لگے دو ہزار سے زائد ڈی سیلینیشن پلانٹس میں استعمال کیا جارہا ہے۔ جن میں سعودی عرب میں لگایا گیا ایک پلانٹ بھی شامل ہے جو روزانہ 250 ملین گیلن پانی صاف کرتا ہے۔

BdT Welt Tag des Wassers

جنوبی ایشیا اس حوالے سے انتہائی خراب صورت حال کا شکار دکھائی دیتا ہے

ڈی سیلینیشن کا دوسرا اہم طریقہ الیکٹرڈائیالیسز Electro dialysis ہے پانی میں جب نمکیات حل ہوجاتے ہیں تو وہ چارج پارٹیکلزمیں تقسیم ہوجاتے ہیں جنہیں آئنزIons کہا جاتا ہے۔ اس طریقے میں نمکیات والے پانی کو ایک ایسے کنٹینر میں ڈالا جاتا ہے جس کے دونوں سروں پر الیکٹروڈز یا مثبت اور منفی برقیرے لگے ہوتے ہیں۔ جب ان الیکٹروڈز کو کرنٹ فراہم کیا جاتا ہے تو چارج پارٹیکلز یا آئنز دونوں برقیروں کی طرف کشش کی وجہ سے حرکت کرتے ہیں۔ الیکٹروڈز سے پہلے لگائی گئی Semi Permiable Membranes یا ایسی باریک جھلی لگا دی جاتی ہے جن میں سے صرف پانی کے مالیکیول گزر سکتے ہیں اور نمکیات کے مالیکیولز ان جھلیوں پر ہی رہ جاتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے چائےکے لئے استعمال کی جانے والی چھلنی میں پتی چھلنی میں ہی رہ جاتی ہے۔ سیمی پرمی ایبل ممبرین سے گزرنے والے صاف پانی کو علیحدہ جمع کرلیا جاتا ہے۔ اس طرح کا پہلا پلانٹ 1958 میں ساؤتھ افریقہ میں لگایا گیا تھا۔ مگر اسکے لئے درکار بجلی کی بڑی مقدار کی وجہ سے یہ طریقہ زیادہ کارآمد ثابت نہیں ہوتا سوائے ایسے ملکوں کے جہاں بجلی وافر مقدار میں موجود ہے۔

سمندری پانی سے نمکیات علیحدہ کرنے یا ڈی سیلینش کا تیسرا اور سب سے زیادہ استعمال کیا جانے والے طریقہ ریورس اوسموسس ہے۔ جس میں سمندری پانی کو دباؤ کے ذریعے باریک جھلی یا سیمی پرمی ایبل ممبرین سے گزارا جاتا ہے اور پہلے بتائے گئے طریقے کے مطابق نمکیات جھلی پر رہ جاتے ہیں اور صاف پانی علیحدہ ہوجاتا ہے۔ ڈی سیلینیشن کے اس طریقے سے 95 فیصد سے 99 فیصد تک صاف پانی حاصل ہوتا ہے جو نہ صرف صحت کے لئے محفوظ بلکہ اس کا ذائقہ بھی بہتر ہوتا ہے۔ اور یہ طریقہ سب سے کم خرچ بھی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ملٹی اسٹیج فلیش ڈسٹی لیشن کے ذریعے صاف پانی حاصل کرنے پر جتنا خرچ آتا ہے، ریورس اوسموسس کے ذریعے ڈی سیلینیش پر اس سے آدھا خرچ ہوتا ہے۔