1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سمندری طوفان: ٹھٹھہ اور بدین کو چھوتے ہوئے گزرگیا

بحیرہ ء عرب میں اٹھنے والا سمندری طوفان پَیٹ پاکستان کے جنوبی ساحلی اضلاع ٹھٹھہ اور بدین کو چھوتا ہوا گزرگیا ہے۔

default

سمندری طوفان کے پیش نظر کشتیاں ساحل پر کھڑی ہیں

طوفان کے باعث ملک کے تجارتی مرکز کراچی میں شدید بارشیں ہورہی ہیں جبکہ مختلف واقعات میں چھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

یہ طوفان کراچی کو زیادہ متاثر کئے بغیر ہی مشرق میں بھارت کی جانب بڑھ گیا ہے جبکہ اس کی شدت میں مزید کمی واقع ہورہی ہے۔ پہلے لگائے گئے اندازوں کے مطابق یہ سمندری طوفان سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی تیز ہوائیں لے کر کراچی کے ساحل کی جانب بڑھ رہا تھا۔ ہفتے کو اسی طوفان کے باعث خلیجی ریاست عمان میں پندرہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

پاکستان میں محکمہ ء موسمیات کے اعلیٰ عہدیدار قمر زمان چوہدری کے بقول اگلے بارہ گھنٹوں کے دوران کراچی اور صوبہ ء سندھ کے دیگر ساحلی اضلاع میں شدید نوعیت کی مزید بارشوں کا امکان ہے۔ پہلے دن 128 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

سندھ اور بلوچستان کے ساحلی دیہاتوں سے ہزاروں افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جاچکا ہے۔ بہت سے خاندان اپنے گھر بار چھوڑنے پر تیار نہیں بھی تھے۔

Überschwemmung in Bangladesch

متاثرین نے عارضی کیمپوں میں امدادی سامان کی کمی کی شکایت کی ہے

طوفان کے ممکنہ شدید تر نقصان سے بچنے کے لئے کراچی کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں انتظامیہ کو چوکس کردیا گیا تھا جبکہ ہسپتالوں میں ادویات اور کچھ دنوں کی ٹن پیک خوراک کا بھی ذخیرہ کیا گیا تھا۔

گزشتہ برس طوفانوں بارشوں کے دوران کراچی میں سڑکوں کے کنارے لگے لوہے کے بڑے بڑے اشتہاری بورڈ سب سے زیادہ انسانی ہلاکتوں کا باعث بنے تھے۔ اس برس حفاظتی اقدامات کے تحت بیشتر مقامات سے ان دیو قامت اشتہاری بورڈز کو اتار لیا گیا تھا۔

دریں اثنا ساحلی دیہاتوں کے لگ بھگ اسی ہزار متاثرین میں سے بیشتر نے امدادی سامان کی کمی کی شکایات کی ہے۔ ایسے ہی ایک دیہات روہڑی گوٹھ کے محمد ہاشم نے بتایا ہے کہ امدادی کیمپوں میں ادویات، خوراک اور پانی کی کمی کے باعث وہ اپنے خاندان کو لے کر دوبارہ آبائی علاقے میں آنے کا خطرہ مول لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔

بحرانی صورتحال سے نمٹنے کے قومی ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی سے وابستہ ندیم احمد کے بقول مسلح افواج سمیت تمام دیگر متعلقہ ادارے کسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار ہیں۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : افسر اعوان

DW.COM