1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سمندری طوفان آئرین نیو یارک پہنچ گیا

سمندری طوفان آئرین اتوار کے روز امریکی شہر نیویارک تک پہنچ گیا۔ نیویارک میں شدید طوفانی جھکڑ اور بارش نے معمولات زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔

default

نیویارک امریکہ کی اقتصادی شہ رگ ہے

امریکہ کے نیشنل ہیریکین سینٹر کے مطابق یہ طوفان کم شدت کی کیٹیگری ایک میں داخل ہو چکا ہے۔ سمندری طوفان آئرین نے امریکہ کے اقتصادی مرکز نیویارک کے کاروبار زندگی کو درہم برہم کر کے رکھ دیا ہے۔ نیویارک میں طوفانی جھکڑ اور شدید بارشیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ نیویارک، جو کہ امریکہ کا سب سے گنجان آباد شہر ہے، مکمل طور پر بند ہو چکا ہے۔ نیویارک میں بجلی بند ہو چکی ہے اور ٹرانسپورٹ کا نظام معطل ہو چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس طوفان کی شدت میں کمی دیکھی گئی ہے۔ طوفان کے ساتھ 140 کلومیٹر کی طوفانی ہوا بھی چل رہی ہے۔ گزشتہ روز نارتھ کیرولائینا میں اس طوفان کے باعث 90 ہزار افراد کو دیگر مقامات پر منتقل کیا گیا تھا۔ نارتھ کیرولائینا کے گورنر کے مطابق اب ریاست میں لاکھوں گھروں کو بجلی کی فراہمی معطل ہو چکی ہے۔ طوفان کے نتیجے میں امریکہ کی مشرقی پٹی پر واقع شہروں نارتھ کیرولائنا، ورجینیا اور فلورفڈا میں کم از کم نو ہلاکتوں کی بھی اطلاعات ہیں۔

NO FLASH Hurrikan Irene

سمندری طوفان آئرین نے امریکہ کے اقتصادی مرکز نیویارک کے کاروبار زندگی کو درہم برہم کر کے رکھ دیا ہے۔

 امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ صورتحال اگلے کئی روز تک سنجیدہ رہے گی۔ واضح رہے کہ نیویارک کے ساحلی علاقوں سے ٹکرانے والے اس طوفان کے باعث نہ صرف بڑی تعداد میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے بلکہ شہر کے ماس ٹرانزٹ سسٹم کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔

نیو یارک کے میئر مائکل بلومبرگ نے طوفان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’’ہیریکین بالآخر ہمارے سر پہ آ گیا ہے۔‘‘ نیو یارک کے میئر نے شہریوں کو خبردار کیا کہ آئرین جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے اور ان کو ہدایت کی کہ گھروں کے اندر ہی رہیں تاکہ وہ طوفان باد و باراں کی وجہ سے اڑنے والی اشیاء کی زد میں نہ آئیں۔ ان ہدایات کے باوجود بلومبرگ پر امید ہیں کہ نیویارک اس صورت حال کا مقابلہ کر پائے گا۔ ’’نیو یارک ایک عظیم شہر ہے اور ہم اس طرفان سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘‘ 

عام طور پر انتہائی مصروف سمجھا جانے ولا شہر اتوار کے روز مکمل طور پر ویران دیکھا گیا۔ دارالحکومت واشنگٹن میں آٹھ انچ تک کی بارش ریکارڈ کی گئی تاہم واشنگٹن طوفان کی وجہ سے کسی بڑی تباہی سے بچ گیا ہے۔ واشنگٹن کے ایئرپورٹس اور ماس ٹرانزٹ نظام معمول کے مطابق کھلے رہے۔

سن دو ہزار آٹھ کے بعد آئرین وہ پہلا سمندری طوفان ہے جس نے امریکہ کے کسی مرکزی شہر کو اس طرح متاثر کیا ہو۔ دو ہزار آٹھ میں ہیریکین آئک ٹیکساس سے ٹکرایا تھا۔ دو ہزار پانچ میں ہیریکین کیٹرینا نے نیو اورلینز میں زبردست تباہی مچائی تھی اور ایک اٹھارہ سو افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔ اس وقت کے صدر جارج ڈبلیو بش کو صورت حال سے مناسب طور پر نہ نمٹنے کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

رپورٹ: شامل شمس⁄  خبر رساں ادارے

ادارت: عاطف توقیر

 

DW.COM