1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سمندری طوفان آئرین نیویارک سے آگے بڑھ گیا

سمندری طوفان آئرین نیویارک کو چھوتے ہوئے اب آگے بڑھ گیا ہے۔ اس وقت اس کی شدت میں مزید کمی واقع ہو چکی ہے۔ اس طوفان کی زد میں آ کر ہلاک ہونے والوں کی تعداد ڈیڑھ درجن ہو گئی ہے۔

default

امریکہ کی آٹھ ریاستوں میں بحر اوقیانوس سے اٹھنے والے کیٹگری چار کے سمندری طوفان آئرین کی زد میں آ کر کل اٹھارہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ بیشتر ہلاکتیں تیز رفتارجھکڑوں کی وجہ سے گرنے والے درختوں کی وجہ سے ہوئی ہیں۔ اب یہ طوفان خاصا کمزور ہو چکا ہے اور اس کا درجہ کیٹگری ایک سے بھی کم ہوچکا ہے۔ امکانی طور پر اگلے ایک دو روز میں اس کے ساتھ چلنے والے جھکڑ ختم ہو جائیں گے اور بادل برسنا بند کردیں گے۔

سمندی طوفان کے ساتھ تیز رفتار جھکڑ اور شدید بارشیں ہو رہی ہیں۔ اس کے راستے میں آنے والے بے شمار مکان تباہ ہوئے۔ اب تک کے اندازوں کے مطابق سات ارب ڈالر کا نقصان امریکی معیشت کو ہو چکا ہے۔ اس باعث امریکہ کی خسارے سے متاثر اقتصادیات متاثر ہو سکتی ہیں۔ نیویارک کے ہوائی اڈوں پر آنے اور جانے والی نو ہزار پروازوں کو منسوخ کیا گیا تھا۔ شہر کے متاثرہ علاقوں میں اتوار کی سہ پہر کے بعد سے بحالی آپریشن کا آغاز ہو گیا ہے۔ مختلف مقامات پر دس لاکھ سے زائد دفاتر اور گھروں کو منقطع ہونے والی بجلی کی سپلائی بحال کرنے کا عمل بھی شروع کردیا گیا ہے۔ نیویارک کو اندازوں سے کم نقصان پہنچا ہے۔

NO FLASH Hurrikan Irene in New York

نیو یارک شہر بڑی تباہی سے بچ گیا

آئرین طوفان کےگزرنے کے بعد نیو یارک کے میئر مائیکل بلوم برگ نے پونے چار لاکھ افراد کے انخلا کا حکم واپس لے لیا ہے۔ شہر کے زیریں مین ہٹن کی گلیوں میں سیلابی پانی داخل ہوا، لیکن شہر کسی بڑی تباہی سے بچ گیا ہے۔ اب انتظامی امور کے تحت زندگی بحال کرنے کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔

امریکی صدر نے سمندری طوفان کے متاثرین کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا اور کہا کہ بحالی کے عمل کے لیے ایک ہفتہ درکار ہیں۔ انہوں نے کمزور ہوتے طوفان کو اب بھی امریکی بستیوں کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔ امریکی صدر نے طوفان کے بعد کی صورت حال پر اظہار خیال وائٹ ہاؤس سے کیا۔ ان کو امریکہ کی اندرونی سلامتی کی وزارت کی جانب سے مسلسل بریفنگ دی جاتی رہی۔

شمالی کیرولینا میں کم از کم دو ہزار افراد نے انخلا کا حکم ماننے سے انکار کردیا تھا ۔ اب وہ لوگ سیلابی پانی کی بلند سطح کی وجہ سے مرکزی علاقوں سے کٹ کر رہ گئے ہیں۔ ان کی امداد کے لیے کشتیوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ:  عابد حسین

ادارت:  ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس