1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

سمندروں میں پھینکا گیا کوڑا کھانے کی پلیٹ پر

سمندروں پر تحقیق کے فرانسیسی ادارے Ifremer کے اندازوں کے مطابق بحیرہء روم میں پلاسٹک کے چھوٹے چھوٹے ذرات پر مشتمل 500 ٹن کوڑا کرکٹ تیر رہا ہے۔ سائنسدانوں کا انتباہ ہے کہ یہ کوڑا کھانے کی پلیٹ تک بھی پہنچ سکتا ہے۔

default

سمندروں میں تیرنے والا یہی پلاسٹک جانوروں کی خوراک بنتا ہے اور یوں اُس خوراک کا بھی ایک حصہ بن جاتا ہے، جو ہمارے کھانے کی میز تک پہنچتا ہے۔ یہ وہ کوڑا کرکٹ ہے، جو بحری جہازوں سے پھینکا جاتا ہے، ساحلوں پر جمع ہوتا رہتا ہے یا پھر دریاؤں اور ہوا کی وساطت سے سمندر تک پہنچ جاتا ہے۔

جنوبی اسپین کے صوبے المیریا کے ساحلی علاقے میں خاص طور پر زیادہ پلاسٹک پایا جاتا ہے۔ اندلس کے علاقے آڈرا سے تعلق رکھنے والا ماہی گیر اینریک بحیرہء روم سے کٹل فش پکڑتا ہے لیکن اُس کے جال میں اکثر ایک ناپسندیدہ چیز بھی پھنس جاتی ہے اور وہ ہے، پلاسٹک کا کوڑا کرکٹ۔ اینریک بتاتا ہے کہ سمندر پُرسکون ہو تو اُس کے جال میں پلاسٹک کے کوڑے کی مقدار بھی کم ہو جاتی ہے:’’ہمیں بہت زیادہ مقدار میں پلاسٹک کی چیزیں اور بیگ ملتے ہیں اور ساتھ ساتھ بہت سی سمندری گھاس بھی۔ بارش ہونے کی صورت میں زیادہ کوڑا کرکٹ ندی نالوں میں بہتا ہوا سمندر میں پہنچ جاتا ہے۔ سمندر میں پانی چڑھا ہوا ہو تو ہمیں زیادہ کوڑا دیکھنے کو ملتا ہے۔‘‘

Symbolbild Müll Recycling

پلاسٹک کے کوڑے کو سمندروں میں پھینکنے کی بجائے ری سائیکل کر کے دوبارہ قابلِ استعمال بنایا جا سکتا ہے

ہسپانوی ساحلی علاقے المیریا میں کھیتوں کو پلاسٹک کی شیٹس کے ساتھ ڈھانپ کر مخصوص پودے اگانے کا رواج بہت عام ہے اور اِسی وجہ سے اِس علاقے کو پلاسٹک کا سمندر بھی کہا جاتا ہے کیونکہ وہاں ساحل پر بھی ہر طرف پلاسٹک پڑا ملتا ہے۔ پاکو تولیدانو اور اُن کے دوست تحفظ ماحول کی ایک تنظیم کے دائرے میں برسوں سے اِس مسئلے پر قابو پانے کے لیے کوشاں ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ کھیتوں کو ڈھانپنے کے لیے استعمال ہونے والی پرانی شیٹیں بالآخر ساحل پر اور یوں سمندر میں پہنچ جاتی ہیں، جہاں وہ وقت کے ساتھ ساتھ انتہائی باریک ذروں میں تقسیم ہو جاتی ہیں۔

Plastiki-Boot

سمندروں میں پلاسٹک کے کوڑے کی طرف توجہ دلانے کے لیے پلاسٹک کی ساڑھے بارہ ہزار پرانی بوتلوں سے بنائی گئی کشتی

تولیدانو کہتے ہیں:’’یہ بہت بڑا اسکینڈل ہے اور خاص طور پر یہ انسانی صحت کے لیے ایک بہت بڑا اور سنگین خطرہ ہے۔‘‘

یہ خطرہ انسانوں کو ہی نہیں بلکہ اُن سمندری جانوروں کو بھی ہے، جو دانستہ یا نادانستہ اِس پلاسٹک کو خوراک کے طور پر استعمال کر لیتے ہیں۔

کم از کم ہر تین سال بعد اِن شیٹوں کو تبدیل کیا جانا ضروری ہوتا ہے۔ کئی کسان اپنی پلاسٹک کی شیٹیں جلا ڈالتے تھے تاہم اب وہ اپنی ان شیٹوں کو بلا معاوضہ ری سائیکل کروا سکتے ہیں۔ کھیتوں کو شیشے سے ڈھانپنا مہنگا بھی ہے اور غیر موزوں بھی، اِس لیے آج کل سائنسدان نئی قسم کے پلاسٹک کی شیٹیں تیار کرنے میں مصروف ہیں۔ یہ نئی شیٹیں سورج کی ضرر رساں شعاعوں کو روک سکتی ہیں اور زیادہ مضبوط بھی ہیں۔

رپورٹ: نارمن شٹریگل / امجد علی

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس