1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سمر قند میں کریموف کی آخری رسومات

آج ہفتے کو اُزبکستان کے صدر اسلام کریموف کو سُپرد خاک کیا جارہا ہے۔ اُن کی آخری رسومات نہایت پُر وقار انداز میں اُن کے آبائی شہر سمر قند میں ادا کی جا رہی ہیں۔

78 سالہ کریموف کے وفات کی تصدیق جمعے کو اُزبکستان کی حکومت نے کی تھی۔ وہ برین ہیمریج یا دماغ کی شریانیں پھٹنے کے سبب ہسپتال میں داخل کیے گئے تھے جہاں چھ روز تک زیر علاج رہنے کے بعد جمعہ 2 ستمبر کو اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔

کریموف کی وفات کو وسطی ایشا کی سابق سویت ریاست اُزبکستان کے لیے ایک بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔ اُزبکستان کے ایک نہایت مضبوط قائد مانے جانے والے کریموف 27 برس تک ملکی اور علاقائی سیاست پر چھائے رہے۔ اُزبکستان سخت ریاستی کنٹرول والا ملک مانا جاتا ہے۔

ہفتے کی صبح سرکاری ٹیلی وژن پر کریموف کی سمر قند کی جانب آخری سفر کی تیاریاں دکھائی جا رہی ہیں۔ اُن کے تابوت کو بذریعہ ہوائی جہاز سمرقند پہنچایا گیا، جہاں کے مرکزی اسکوائر پر اُن کا تابوت کھول کر رکھا جائے گا تاکہ اُزبک باشندے اپنے قائد کا آخری دیدار کر سکیں اور انہیں الوداع کہہ سکیں۔ بعد ازاں ہفتے کی سہ پہر اُنہیں سُپرد خاک کر دیا جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق روسی وزیر اعظم دیمتری میدویدیف سمر قند میں کریموف کی آخری رسومات میں شرکت کریں گے۔ اُن کے علاوہ تاجک صدرامام علی راحمانوف، ترکمانستان کے صدر قربان قُلی بردی موحمدوف اور کرغیزستان، بیلاروس اور قزاقستان کے وزرائے اعظم بھی کریموف کو خراج عقیدت پیش کرنے اور اُنہیں آخری منزل تک پہنچانے کے لیے سمر قند پہنچ رہے ہیں۔

اُزبک صدر کریموف کی آخری رسومات کی تمام تر تیاریوں کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کی سربراہی اُزبکستان کے وفادار وزیراعظم شفقت میرزیوویف خود کر رہے ہیں۔

Usbekistan Präsident Islom Karimov Trauerfeier

اسلام کریموف کا کوئی واضح جانشین نہیں ہے

Impressionen Usbekistan

سمر قند کریموف کا آبائی شہر ہے

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ امر اس طرف نشاندہی ہے کہ غالباً شفقت ہی اُزبکستان میں قریب تین عشروں تک سیاست کا مرکزی نقطہ بنے رہنے والے صدر کریموف کی جان نشینی یا پیش رو کے لیے مقابلے کی دوڑ میں سب سے آگے ہوں گے۔ اُزبکستان کے قانون کے مطابق کریموف کے انتقال کے بعد سینٹ کے سربراہ نغمت اللہ یُلداشیف قبل از وقت انتخابات تک صدارتی منصب پر فائض رہیں گے۔

واضح رہے کہ اسلام کریموف کا کوئی واضح جانشین نہیں ہے۔ ازبکستان میں کوئی قانونی حزب اختلاف نہیں ہے اور ذرائع ابلاغ پر سخت سرکاری کنٹرول ہے۔ 27 برس تک بر سر اقتدار رہنے والے کریموف پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے مخالفین کو دبانے کے الزام عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ کریموف کے انتقال پر ملک میں تین روزہ سوگ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

DW.COM