1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

سمارٹ فون ایپلیکیشن، جنسی حملے کی صورت میں مدد

آج بدھ کو بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں سمارٹ فونز کے لیے ایک ایسی ایپلیکیشن متعارف کروائی گئی ہے، جس کے ذریعے خواتین کسی بھی ممکنہ جنسی حملے سے نمٹنے کے قابل ہو سکیں گی۔

default

سمارٹ فونز کے لیے بنائی گئی اس App یعنی ایپلیکیشن کی بدولت خواتین خود پر کسی جنسی حملے کی صورت میں فوری طور پر اپنے دوستوں، رشتہ داروں یا پولیس کو SOS پیغام ارسال کر سکیں گی تاکہ وہ موقع پر پہنچ کر انہیں بچا سکیں۔ ’فائٹ بیک‘ نامی یہ ایپ بھارت کے ایک غیر سرکاری ادارے Whypoll نے تیار کروائی ہے۔

یہ ایپ استعمال میں انتہائی آسان ہے، سمارٹ فون پر ڈاؤن لوڈ کی گئی اس ایپ کو صرف ایک مرتبہ ٹچ کرنے کی صورت میں ایک SOS پیغام خودکار طریقے سے ٹیکسٹ، ای میل یا فیس بک پیغام کی صورت میں SOS لسٹ میں شامل لوگوں تک پہنچ جائے گا۔ جب یہ SOS پیغام بھیجا جائے گا تو پیغام وصول کرنے والا ’جی پی ایس‘ کی بدولت اس فون کو ٹریس کر لے گا اور اسے معلوم ہو جائے گا کہ پیغام بھیجنے والا فرد کہاں موجود ہے۔

Symbolbild Gewalt gegen Frauen Vergewaltigung

نئی دہلی بھارت میں خواتین کے لیے غیر محفوظ ترین شہر تصور کیا جاتا ہے

غیر سرکاری ادارے Whypoll کی شریک بانی شویتا پُنج نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کوبتایا، ’میں دہلی میں پلی بڑھی ہوں، جو ہمیشہ ہی میرے لیے ایک غیر محفوظ شہر رہا ہے۔ اور یہ شہر اس مخصوص حوالے سے مزید خراب ہوتا جا رہا ہے۔ ایک عورت یہاں سڑکوں پر خود کو محفوظ تصور نہیں کر سکتی‘۔ انہوں نے بتایا کہ خواتین کے خلاف اس تشدد کے نتیجے میں وہ بہت برا محسوس کرتی تھیں اور ہمیشہ سوچتی تھیں کہ اس کے لیے کیا کیا جائے، ’اسی لیے میں نے یہ ایپ ڈیزائن کی ہے‘۔

اس ایپ کی سالانہ قیمت سو روپے ہے۔ فی الحال یہ صرف انگریزی میں دستیاب ہے تاہم منصوبہ ہےکہ دسمبر کے اختتام تک اسے ہندی اور دیگر متعدد مقامی زبانوں میں بھی تیار کر لیا جائے گا۔

خواتین کے لیے غیر محفوظ تصور کیے جانے والے بھارتی شہروں میں نئی دہلی کا پہلا نمبر ہے۔ پولیس کی طرف سےجاری کیے گئے اعداد و شمارکے مطابق وہاں سن 2010 کے دوران مجموعی طور پر آبرو ریزی کے 489 واقعات رجسٹر کیے گئے۔ اسی طرح سال 2009 کے دوران ایسے واقعات کی تعداد 459 ریکارڈ کی گئی تھی۔

بھارت کی پھلتی پھولتی معیشت کی بدولت وہاں خواتین کے لیے روزگار کے مواقع بڑھ رہے ہیں تاہم بہت سی خواتین کام کی غرض سے دفتر جاتے اور گھر واپس آتے وقت ہراساں کیے جانے یا جنسی حملے کے ممکنہ خوف میں مبتلا رہتی ہیں۔

گزشتہ برس بھارتی حکومت، اقوام متحدہ اور ایک غیر سرکاری ادارے ’جاگوری‘ نے مشترکہ طور پر ایک سروےکیا، جس کے نتائج کے مطابق نئی دہلی میں پینتالیس فیصد خواتین نے کہا تھا کہ وہ اندھیرا ہو جانےکے بعد گھر سے اکیلے باہر نکلنے سےگریز کرتی ہیں جبکہ پینسٹھ فیصد خواتین نےکہا تھا کہ وہ غروب آفتاب کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے سے خوف کھاتی ہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس