1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سماجی شعبے میں ترقی، سٹیزنز فاؤنڈیشن ایک مثالی ادارہ

پاکستان میں سٹیزنز فاؤنڈیشن کے ملک بھر میں ایک ہزار سے زائد اسکولوں میں ایک لاکھ پینسٹھ ہزار طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں۔ ان اسکولوں میں مجموعی طور پر قریب نو ہزار خاتون ٹیچرز تدریسی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

دی سٹیزنز فاؤنڈیشن کے اسکولوں کا شمار پاکستان کے اعلیٰ درجے کے غیر سرکاری تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے اور تعلیمی شعبے میں اس تنظیم کی خدمات بہت نمایاں ہیں۔ اس ادارے کے بانیوں میں سے ایک، مشتاق چھاپڑا نے ڈی ڈبلیو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا، ’’سن 1995 میں ہم چند دوستوں نے جو کامیاب کاروباری شخصیات تھیں، پاکستانی معاشرے کو ’کچھ واپس کرنے‘ کے بارے میں سوچا۔ ہم سب کی رائے یہ تھی کہ تعلیم ہی وہ ذریعہ ہے جس سے کسی بھی ملک کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے۔‘‘

Pakistan Mushtaq Chhapra Gründer der NGO The Citizens Foundation

فاؤنڈیشن کے بانیوں میں سے ایک، مشتاق چھاپڑا

مشتاق چھاپڑا بتاتے ہیں کہ انہوں نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر سن 1996 میں کراچی میں پانچ اسکولوں کی بنیاد رکھی۔ آج بیس برس بعد ملک بھر میں اس فاؤنڈیشن کے 1060 اسکول کامیابی سے کام کر رہے ہیں۔ چھاپڑا کے مطابق، ’’دی سٹیزنز فاؤنڈیشن کے اسکولوں کو پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ چلایا جاتا ہے۔ اس ادارے کے بانی بورڈ آف گورنرز کا تو حصہ ہیں لیکن وہ براہ راست اسکولوں کی انتظامیہ کا حصہ نہیں ہیں۔‘‘

خواتین کی شمولیت

مشتاق چھاپڑا نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ دو عشرے قبل جب انہو‌ں نے پہلی مرتبہ اسکول قائم کیے، تو ایک غریب خاتون نے انہیں گزارش کی کہ وہ اپنی بیٹی کو صرف اسی صورت میں اسکول بھیجے گی جب اسکول میں مردوں کے بجائے خاتون اساتذہ ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہی وہ واقعہ ہے جس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ ایسے اسکولوں میں صرف خواتین ٹیچرز ہی تعلیم دیا کریں گی۔

مشتاق چھاپڑا کہتے ہیں، ’’ہمارے اسکولوں میں آٹھ ہزار نو سو استانیاں ہیں۔ ہر اسکول کی اساتذہ کو اسکول کی گاڑی ان کے گھروں سے لاتی اور واپس چھوڑتی ہے۔ اس کے علاوہ اساتذہ کو کراچی اور مانسہرہ میں قائم تربیتی مراکز میں تربیت بھی دی جاتی ہے۔‘‘ اس فاؤنڈیشن نے خواتین اساتذہ کو ملازمتیں دے کے انہیں نہ صرف قدامت پسند پاکستانی معاشرے میں اپنے لیے باعزت روزگار کا موقع فراہم کیا ہے بلکہ ساتھ ہی اس تنظیم کے تمام اسکولوں میں داخلے کے لیے لڑکیوں کی خاطر 50 فیصد کوٹہ بھی مقرر ہے۔ کئی واقعات میں تو تعلیم مکمل کرنے کے بعد ان طالبات کو اسی تنظیم کے اسکولوں میں ملازمتیں بھی دے دی جاتی ہیں۔

کمیونٹی کو فائدہ

یہ اسکول ملک بھر میں پسماندہ اور غریب آبادی والے 109 چھوٹے بڑے علاقوں میں قائم کیے گئے ہیں تاکہ بچوں کو تعلیمی سہولیات ان کے گھروں کے قریب ہی میسر ہوں۔ ان اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات پر اوسطاﹰ ماہانہ 13 امریکی ڈالر کے برابر خرچ کیے جاتے ہیں جبکہ عام بچوں کے والدین سے ساڑھے تین امریکی ڈالر سے لے کر دس امریکی سنٹ تک فیس لی جاتی ہے۔ نہایت غریب گھرانوں کے بچوں سے یہ فیس بالکل نہیں لی جاتی۔ فاؤنڈیشن کے 60 فیصد اسکولوں میں واٹر فلٹریشن پلانٹ بھی نصب ہیں اور ہر بچے کو تین سے چار لیٹر پانی ہر روز گھر لے جانے کی اجازت بھی ہوتی ہے۔ اس ادارے نے حال ہی میں ایک نئے منصوبے کا آغاز بھی کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت کمیونٹی کی ان پڑھ خواتین کو تین ماہ کا ایک بنیادی تعلیمی کورس کرایا جاتا ہے۔ یہ کورس پورا کرنے کے بعد متعلقہ خواتین کچھ کچھ لکھنے پڑھنے کے قابل ہو جاتی ہیں۔

مشتاق چھاپڑا نے بتایا کہ اب تک ان اسکولوں سے بارہ ہزار پانچ سو بچوں نے اپنی تعلیم کامیابی سے مکمل کی ہے۔ ان میں سے بھی 72 فیصد کالج تک کی تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سٹیزنز فاؤنڈیشن کے اسکولوں میں مالی طور پر محروم خاندانوں کے جو بچے اپنا تعلیمی سلسلہ جاری نہ رکھ سکیں یا فیل ہو جائیں تو انہیں اسی ادارے کی طرف سے ووکیشنل ٹریننگ بھی فراہم کی جاتی ہے۔

Pakistan Uzma Saleem Ex-Schülerin der The Citizens Foundation

عظمیٰ سلیم

شاندار مثال

عظمیٰ سلیم نے سن 2003 میں اس فاؤنڈیشن کے ایک اسکول سے میٹرک کا امتحان پاس کیا تھا۔ پھر عظمیٰ نے وہیں پڑھانا شروع کر دیا۔ تین سال بعد اس لڑکی نے بحریہ یونیورسٹی کے ایم بی اے کورس میں داخلہ لے لیا اور ساتھ ساتھ سلائی کر کے اپنے گھر والوں کی مالی مدد بھی کرتی رہی۔ اتنی محنت کے بعد عظمیٰ نے ایم بی اے میں نہ صرف اول پوزیشن حاصل کی بلکہ پھر سی ایس ایس کا امتحان پاس کر کے پاکستانی سول سروس کا حصہ بھی بن چکی ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’’میں دیگر عوامل کے علاوہ سٹیزنز فاؤنڈیشن کی بھی شکرگزار ہوں کہ ان سب کی مدد سے کچی بستی کی گلیوں میں کھیلنے والی ایک لڑکی آج کے پاکستان کے فیصلہ سازوں میں شامل ہو چکی ہے۔‘‘

عالمی اقتصادی فورم میں نمائندگی

سٹیزنز فاؤنڈیشن کے شریک بانی مشتاق چھاپڑا کو Schwab نامی ادارے کی جانب سے 2015 میں ’سوشل انٹرپرونیور‘ کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا، جو سوئٹزرلینڈ میں عالمی اقتصادی فورم کا اہتمام کرتا ہے۔ اسی تناظر میں چند روز قبل چھاپڑا کو اس ایوارڈ اور تعلیمی شعبے میں ان کی خدمات کے اعتراف میں ورلڈ اکنامک فورم میں بھی مدعو کیا گیا تھا۔ اپنے انٹرویو میں مشتاق چھاپڑا نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ورلڈ اکنامک فورم میں دنیا بھر سے آئی ہوئی ڈونر ایجنسیوں نے پاکستانی معاشرے میں سرمایہ کاری میں کافی دلچسپی ظاہر کی۔‘‘

DW.COM