1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کا انسدادِ دہشت گردی پر اتفاق

فیس بک، ٹویٹر، یوٹیوب اور مائیکروسافٹ نے انسداد دہشت گردی کے لیے پارٹنرشپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس شراکت کے بعد امکاناً انتہا پسندوں کو سماجی رابطے کی ویب سائٹس کے استعمال میں مشکلات کا سامنا ہو گا۔

گلوبل انٹرنیٹ فورم کے قیام سے اس کا امکان پیدا ہوا ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر انتہا پسندانہ اور دہشت گردی کی ترغیب دینے سے متعلق تمام مواد تلف کرنے میں آسانی ہو گی۔ ایسا امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ فیس بک، ٹویٹر اور یوٹیوب پر دہشت گردی اور انتہا پسندی سے وابستہ مواد کو ضائع کر دینے کے بعد ایسی ویب سائٹس کو پوری طرح کنٹرول کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ان ویب سائٹس پر شدت پسندانہ مواد کے دیکھنے یا اپ لوڈ کرنے میں مشکلات کھڑی کر دی جائیں گی۔

بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ انتہا پسندانہ عقائد کے فروغ کی حامل ویب سائٹس اس پابندی کے بعد اپنے تمام ضوابط کو ایک نیا جامہ پہنا کر دوبارہ اپ لوڈ کرنے کی کوشش کریں گی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ گلوبل انٹرنیٹ فورم کو کئی ماہرین درکار ہوں گے جو انتہا پسندانہ عقائد پر گہری نظر رکھتے ہوں اور وہ جانتے ہوں کہ کونسی عبارت میں دہشت گردی کا پیغام چُھپا ہوا ہے۔

Screenshot facebook.com/muradmohamedsaeed (facebook.com/muradmohamedsaeed)

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر انتہا پسندانہ اور دہشت گردی کی ترغیب کا مواد تلف کر دیا جائے گا

یہ امر اہم ہے کہ انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں فیس بک، ٹویٹر، یوٹیوب اور مائیکروسافٹ علیحدہ علیحدہ اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے تھے اور اب ان تمام کوششوں کو یکجا کر دیا گیا ہے۔ ان اداروں کی کوشش ہے کہ مشترکہ کوششیں زیادہ بارآور ہو سکتی ہیں۔ ان کمپنیوں نے اپنے اشتراک میں اس پہلو پر خاص طور پر زور دیا ہے کہ انسداد دہشت گردی اور انتہا پسندی کے پرچار کی ہر ممکن طریقے سے حوصلہ شکنی کی جائے گی۔

گلوبل انٹرنیٹ فورم اپنے عمل میں تقویت پیدا کرنے کے حوالے سے ایسے چھوٹی چھوٹی ٹیکنالوجی فرموں کے ساتھ کام کرے گی، جن کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ نفرت پھیلانے والے مواد اور انتہا پسندی کے فروغ کے حوالے سے اپ لوٹ کیے جانے والے مواد پر نظر رکھیں۔ ایسے مواد کو اپ لوڈ کرنے کے فوری بعد معلومات حاصل ہونے پر کرش کر دیا جائے تا کہ نوجوان ایسے مواد کو تلاش کر کے پڑھنے سے دور ہو جائیں۔ ایسے اندازے لگائے گئے ہیں کہ مختلف سرچ انجنوں پر موجود انتہاپسندانہ مواد دہشت گردانہ رویے کے فروغ کا باعث بن رہے ہیں۔