1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’سماجی بائیکاٹ‘ پر پابندی

مہاراشٹرا وہ اولین بھارتی ریاست بن گئی ہے جس نے گاؤں کی مقامی کونسلوں کی طرف سے ’سماجی بائیکاٹ‘ کے فیصلوں پر پابندی لگا دی ہے۔ اس طرح کے بائیکاٹ کا نشانہ عام طور پر نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے افراد اور خواتین بنتی ہیں۔

تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کے مطابق اس طرح کے فیصلے عام طور پر بھارت میں کمتر سمجھی جانے والی دلت برادری کے افراد کے خلاف دیے جاتے ہیں جو عموماﹰ کسی دوسری ذات میں شادی بیاہ یا ’غیر مناسب‘ لباس وغیرہ پہننے جیسے معمولی واقعات پر بھی بطور سزا سنائے جاتے ہیں۔

بھارت کی اس مغربی ریاست نے گزشتہ ماہ کئی دہائیوں سے جاری پنچائتی نظام کے خلاف بھی ایک قانون بنایا تھا۔ مہاراشٹرا کے وزیر اعلیٰ دیوندرا فدناویس کے بقول، ’’لوگوں کو ذات، برادری اور روایات کے نام پر زیادتیوں کا نشانہ بنانے کے خلاف یہ قانون ضروری تھا۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ’’عوامی فلاح کے لیے سماجی اصلاحات کے سلسلے میں یہ ضروری ہے کہ سماجی بائیکاٹ کے سلسلے کو ختم کیا جائے۔‘‘

اس طرح کے بائیکاٹ کا نشانہ عام طور پر نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے افراد اور خواتین بنتی ہیں

اس طرح کے بائیکاٹ کا نشانہ عام طور پر نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے افراد اور خواتین بنتی ہیں

گاؤں کی کونسل یا پنچائت کے حکم پر اس طرح کے واقعات اکثر ہوتے رہے ہیں جن میں مختلف افراد یا خاندانوں کو گاؤں سے نکال دیا جاتا ہے اور انہیں مندروں، پانی کے کنوؤں، گاؤں کی مارکیٹ یا دیگر رسوم اور تقاریب میں شرکت کی اجازت نہیں ہوتی۔ بعض واقعات میں تو پنچائتوں کی طرف سے خواتین کو جادوگرنیاں تک قرار دیتے ہوئے بطور سز ان کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی یا ان کو قتل کر دینے تک کی سزائیں بھی دی گئیں۔

مہاراشٹرا کے نئے قانون کے مطابق سماجی قطع تعلق ایک جرم قرار دے دیا گیا ہے جس کی سزا سات سال قید یا پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ مقرر کی گئی ہے۔ انسانی حقوق کے گروپوں کی طرف سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ دیگر بھارتی ریاستیں بھی مہاراشٹرا کی پیروی کریں۔

ممبئی میں قائم ’سنٹر فار اسٹڈی آف سوسائٹی اینڈ سیکولرازم‘ کے ڈائریکٹر عرفان انجینیئر نے تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’اس قانون سے ذاتوں کے خلاف کیے جانے والے جرائم کی روک تھام میں کسی حد تک مدد ملے گی۔ اس سے نچلی ذاتوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے اختیارات بہتر ہوں گے کیونکہ اس کے ذریعے گاؤں کی پنچائتوں کے خلاف کارروائی کا ایک طریقہ کار مل گیا ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح کے قوانین بھارت کی دیگر ریاستوں میں بھی نافذ کیے جائیں، خاص طور پر ان ریاستوں میں جہاں گاؤں کی یہ پنچائتیں بہت زیادہ طاقت رکھتی ہیں۔