1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سلیم شہزاد کا قتل: منظوری حکومت نے دی، ایڈمرل مولن

ایک اعلیٰ امریکی فوجی عہدیدار کے بقول مئی کے آخر میں پاکستانی صحافی سلیم شہزاد کے قتل کی بظاہر اسلام آباد حکومت میں شامل چند عناصر نے منظوری دی تھی تاہم یہ تصدیق نہیں کی جا سکتی کہ اس قتل میں آئی ایس آئی بھی ملوث تھی۔

default

واشنگٹن سے خبر ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ امریکی فوج کے چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائیک مولن نے کہا ہے کہ ان کے پاس اس بارے میں تو کوئی ثبوت نہیں کہ پاکستانی صحافی سلیم شہزاد کی ہلاکت میں ملکی فوج کا خفیہ ادارہ آئی ایس آئی بھی ملوث رہا ہے، تاہم ایڈمرل مولن نے کہا کہ انہوں نے اب تک ایسی کوئی بھی بات نہیں سنی، جو ’اس رپورٹ کی تردید کر سکے کہ اس صحافی کی ہلاکت کا پاکستانی حکومت کو علم تھا۔‘

ایڈمرل مائیک مولن نے واشنگٹن میں پینٹاگون پریس ایسوسی ایشن کے رکن نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’ہاں، اس قتل کی منظوری حکومت نے دی تھی۔‘‘ مختلف خبر ایجنسیوں نے اپنی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ پاکستان میں سلیم شہزاد کے قتل کے سلسلے میں مبینہ طور پر اسلام آباد حکومت کے ملوث ہونے کے حوالے سے ایڈمرل مائیک مولن کا یہ بیان کسی بہت سینئر امریکی عہدیدار کا وہ پہلا بیان ہے، جس میں عوامی سطح پر اور بہت کھل کر اس ہلاکت کا ذمہ دار پاکستانی حکومت کو قرار دیا گیا ہے۔

ہانگ کانگ کے ایک جریدے ایشیا ٹائمز آن لائن کے لیے کام کرنے والے پاکستانی صحافی سلیم شہزاد 29 مئی کو اسلام آباد سے اچانک غائب ہو گئے تھے اور دو روز بعد ان کی لاش ایک نہر سے ملی تھی، جس پر پولیس کے مطابق تشدد کے نشانات بھی تھے۔

Syed Saleem Shahzad

سلیم شہزاد

پاکستان میں فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے مبینہ طور پر اس واقعے میں ملوث ہونے کے بارے میں قیاس آرائیاں بھی کی جانے لگی تھیں تاہم آئی ایس آئی کی طرف سے ایسے تمام دعوے رد کر دیے گئے تھے کہ شہزاد کی ہلاکت میں اس کا کسی بھی طرح سے کوئی ہاتھ رہا ہے۔

سلیم شہزاد اپنی ہلاکت سے پہلے اس بارے میں حقائق تک پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے کہ پاکستان میں عسکریت پسند گروپوں کے مبینہ طور پر آئی ایس آئی کے ساتھ رابطے تھے۔ اس صحافتی چھان بین سے قبل انہوں نے اس بارے میں بھی ایک رپورٹ لکھی تھی کہ کراچی میں پاکستانی بحریہ کے پی این ایس مہران نامی اڈے پر دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ کے شدت پسندوں نے اس لیے حملہ کیا تھا کہ عسکریت پسندوں کی وہ بات چیت ناکام ہو گئی تھی، جس کے ذریعے پاکستانی بحریہ کے دو ایسے اہلکاروں کی رہائی کے لیے کوششیں کی جا رہی تھی، جن کے مبینہ طور پر عسکریت پسندوں کے ساتھ تعلقات تھے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM