1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

سلووینیہ کی سرحد کے لیے سوا سو کلومیٹر طویل باڑ خرید لی گئی

یورپی یونین کے رکن ملک اور ہزارہا غیر قانونی تارکین وطن کی آمد کے باعث شدید مشکلات کی شکار ریاست سلووینیہ نے کروشیا کے ساتھ اپنی سرحد پر لگانے کے لیے ایک سو پچیس کلومیٹر طویل خار دار باڑ خرید لی ہے۔

Ungarn Slowenien Grenze Abbau Zaun

سلووینیہ اور ہنگری کے مابین سرحد بھی باڑ لگا کر بند کی جا چکی ہے

سلووینیہ کے دارالحکومت لبلیانہ سے جمعہ چھ نومبر کے روز موصولہ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق اس مشرقی یورپی ملک کے نشریاتی ادارے ٹی وی سلووینیہ نے اپنی نشریات میں بتایا کہ غیر ملکی تارکین وطن کی آمد کے خلاف حکومت نے یورپی یونین کے رکن ایک اور ملک کروشیا کے ساتھ سرحد پر جو باڑ لگانے کا فیصلہ کیا تھا، اس کے تحت اس باڑ کا ایک حصہ خرید لیا گیا ہے۔

رپورٹوں کے مطابق اس باڑ کی لمبائی 125 کلومیٹر یا 75 میل بنتی ہے، جو قریب 1.5 ملین یورو کے عوض خریدی گئی۔ حکام کے مطابق یہ باڑ لگانے کا مقصد کروشیا سے سلووینیہ آنے والے مہاجرین کا رخ موڑنا ہے، نہ کہ کروشیا کے ساتھ ملکی سرحد کو مکمل طور پر بند کر دینا۔

سلووینیہ کی کروشیا کے ساتھ قومی سرحد کی لمبائی 670 کلومیٹر یا قریب 400 میل بنتی ہے۔ کروشیا کے برعکس، جو کہ یورپی یونین کے شینگن زون میں بھی شامل ہے، سلووینیہ کی حکومت اس سے پہلے یونین کے رکن ایک اور ملک ہنگری کے ساتھ قومی سرحد کو مکمل طور پر بند کر چکی ہے۔

سلووینیہ اگرچہ کروشیا کے ساتھ اپنی سرحد کی بندش کا فیصلہ کر چکا ہے تاہم لبلیانہ حکومت جانتی ہے کہ ایسے اقدامات سے وہ مہاجرین کی آمد کے مسئلے کا کوئی دیرپا حل نکالنے میں کامیاب نہیں ہو گی۔ اسی پس منظر میں سلووینیہ کے وزیر اعظم میرَو سیرار Miro Cerar نےکل جمعرات کے روز خبردار کرتے ہوئے کہا، ’’ہم جانتے ہیں کہ اس طرح ہم (مہاجرین کی آمد کے) مسئلے کو ہمیشہ کے لیے روک دینے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔‘‘

Slowenien Flüchtlinge

وسط اکتوبر سے ڈیڑھ لاکھ تارکین وطن سلووینیہ پہنچ چکے ہیں

سلووینیہ جزوی طور پر الپائن کے پہاڑی سلسلے میں واقع ایک ایسی یورپی ریاست ہے، جس کی اپنی آبادی محض دو ملین کے قریب ہے لیکن جہاں اکتوبر کے وسط یا گزشتہ قریب تین ہفتوں سے پناہ کے متلاشی ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ غیر قانونی تارکین وطن پہنچ چکے ہیں۔

زیادہ تر شام، عراق اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے یہ مہاجرین سلووینیہ کے راستے آسٹریا پہنچا چاہتے ہیں، جہاں سے ان کی اکثریت مغربی اور شمالی یورپ کے امیر ملکوں میں جا کر اپنے لیے سیاسی پناہ کی خواہش مند ہے۔

DW.COM