1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سلووینیہ میں یورپی یونین اور امریکہ کی سالانہ سربراہی کانفرنس

یورپی یونین اور امریکہ کے مابین 1990 سے باقاعدگی سے مشاورت کے علاوہ ہر سال ایک سربراہی کانفرنس بھی ہوتی ہے۔ ایسی ہی امسالہ سربراہی کانفرنس دس جون منگل کے روز سلووینیہ میں ہو گی جو یورپی یونین کا موجودہ صدر ملک ہے۔

default

یورپی یونین کی کونسل کے موجودہ صدر اور سلووینیہ کے وزیر اعظم یانیس یآنشا

امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان بنیادی سیاسی مقاصد کے بارے میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے اور اسی لئے خارجہ اور سلامتی کی حکمت عملی میں دونوں آپس میںایک دوسرے کے ساتھ قریبی تعاون کرتے ہیں۔ تاہم یورپی یونین اور امریکہ کی دوستی میں اختلافات بھی پائے جاتے ہیں۔ یورپی کمشن کے نائب صدر Verheugen کا کہنا ہے کہ یہ رفاقت پرجوش تو ہے لیکن پرمشقت بھی ۔ وہ کہتے ہیں کہ یہی رفاقت یورپی ملکوں اور ان کے رہنماؤں سے یہ تقاضا کرتی ہے کہ یورپی ریاستیں بین الاقوامی سطح پرزیادہ اشتراک عمل کا مظاہرہ کریں۔ ساتھ ہی یہی قریبی رفاقت اس امر کی بھی متقاضی ہے کہ امریکہ بھی اپنی سوچ میں تبدیلی لائے اور اس بات کو تسلیم کرے کہ عالمی قیادت میں دونوں کا حصہ ہونا چاہیے۔

یورپی یونین اور واشنگٹن کے درمیان امریکہ کی سلامتی کی پالیسی کی وجہ سے مستقل طور پر اختلافات پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ اس کی تازہ ترین مثال یہ ہے کہ یورپی یونین کے رکن 27 ملکوں کے امریکہ کا سفر کرنے والے شہریوں کو آئندہ اپنی روانگی سے کم از کم تین دن قبل ایک online فارم کے ذریعے امریکی حکام کے پاس اپنے سفر کا اندراج کرانا پڑا کرے گا۔

George W. Bush im Weißen Haus

سلووینیہ کی یورپی امریکی سربراہی کانفرنس میں صدر بش آخری مرتبہ واشنگٹن کی نمائندگی کریں گے

واشنگٹن کا موقف یہ ہے کہ اس طرح امریکہ کو دہشت گرد انہ حملوں سے تحفظ میں مدد ملے گی لیکن یورپی یونین کے رکن ملکوں میں امریکہ کی ان شرائط کے حوالے سے قدرے ناراضگی پائی جاتی ہے۔ سلووینیہ میںیورپی امریکی سربراہی کا نفرنس میں دہشت گرد ی کے خلاف مشترکہ جنگ بھی ایک اہم موضوع ہوگی۔ جرمنی اور دیگر یورپی ملکوں پرامریکی تنقید کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ ملک خاص کر جنوبی افغانستان میں اپنے فوجی دستے متعین کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ دوسری طرف یورپی یونین کی طرف سے امریکہ کی گوآنتانامو جیل پر بھی سخت تنقید کی جاتی ہے۔

جرمنی کی گرینز پارٹی سے تعلق رکھنے والے یورپی پارلیمان کے ایک رکن Ozdemir گوآنتانامو کی جیل اور دنیا بھر میں تمام خفیہ قید خانے بند کئے جانے کامطالبہ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ضروری ہے کہ امریکی قیادت یہ اعلان کرے کہ یا تو گوآنتانامو جیل کے قیدیوں پر قانون کے مطابق مقدمے چلائے جائیں گے یا پھر انہیں اس طرح رہا کر دیا جائے گا کہ انہیںان کی قید کے عرصے کی تلافی کے لئے مالی معاوضہ بھی ادا کیا جائے۔

یورپی یونین اور امریکہ کے درمیان آب و ہوا کے تحفظ کے شعبے میں بھی واضح اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ یورپی یونین نے جرمنی کی سربراہی میں پہلی بار آب وہوا کو نقصان پہنچانے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کے اخراج میں بہت نمایاں کمی کا فیصلہ کیا جبکہ امریکہ ابھی تک تحفظ ماحول کے اس نئے بین الاقوامی معاہدے میں شمولیت سے انکاری ہے جس کے حتمی خدوخال ابھی تک واضح نہیں ہو سکے اور جسے تحفظ ماحول ہی کے حوالے سے کیوٹو پروٹوکول نامی اس معاہدے کی جگہ لینا ہے جس کی مدت پوری ہونے میں اب زیادہ عرصہ نہیں بچا۔