1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سلووینیہ میں ’پیران کے اوباما‘ کا بطور میئر انتخاب

سلووینیہ کے ذرائع ابلاغ میں پیدائشی طور پر گھانا سے تعلق رکھنے والے ’پیران کے اوباما‘ کا ایک ساحلی تعطیلاتی شہر کے میئر کے طور پر انتخاب کا زبردست خیر مقدم کیا جا رہا ہے۔

default

پیران شہر کا ایک منظر

’پیران کے اوباما‘ کا امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر باراک اوباما سے کوئی خون کا رشتہ تو نہیں ہے تاہم اس یورپی ملک کے میڈیا میں انہیں اس لئے باراک اوباما سے تشبیہ دی جا رہی ہے کہ ایک افریقی تارک وطن کے طور پر سابقہ یوگوسلاویہ آنے والے یہ 54 سالہ ڈاکٹر نسلی طور پر یورپی تو نہیں ہیں مگر گزشتہ ویک اینڈ پر انہیں سلووینیہ کے انتہائی خوبصورت ساحلی تعطیلاتی شہر پیران کا میئر منتخب کر لیا گیا تھا۔

اتوار کے روز پیران کے میئر کے لئے ہونے والے الیکشن میں پیٹر بوس مین نامی اس سیاستدان نے اپنے دوبارہ انتخاب کے خواہش مند 15 ہزار کی آبادی والے اس شہر کے موجودہ میئر کو بڑے کانٹے دار مقابلے کے بعد ہرا دیا تھا۔ اس الیکشن میں بوس مین کو 51.4 فیصد ووٹ ملے تھے اور ان کے حریف امیدوار ٹوماس گانتارکو 48.4 فیصد۔

اپنی فتح کے بعد پیٹر بوس مین نے کہا کہ میڈیا میں انہیں ’’سلووینیہ کے اوباما‘‘ کا نام دیا جا رہا ہے مگر وہ ملکی سطح کی سیاست میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ تاہم انہوں نے کہا: ’’میں پیشے کے اعتبار سے ایک ڈاکٹر ہوں اور میں بطور ایک معالج کے اپنی پریکٹس جاری رکھوں گا۔ میئر بننے کے بعد بھی، چاہے وہ ہفتے میں صرف ایک روز ہی کیوں نہ ہو۔‘‘

پیٹر بوس مین سلووینیہ میں کسی شہر کے میئر منتخب ہونے والے پہلے سیاہ فام شہری ہیں۔ وہ 1977ء میں طب کے ایک طالبعلم کی حیثیت سے لبلیانہ آئے تھے، جہاں ان کی ملاقات کارمین نامی ان کی ایک مقامی ساتھی طالبہ سے ہوئی تھی۔ بعد میں انہوں نے کارمین سے شادی کر لی تھی۔ ان دونوں کی دو بیٹیاں بھی ہیں، جو اب تقریباﹰ جوان ہو چکی ہیں۔

Referendum in Slowenien Bucht Piran

سلووینیہ کا انتہائی خوبصورت ساحلی تعطیلاتی شہر پیران

اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بوس مین نے سلووینیہ ہی میں قیام کا فیصلہ کیا، جو اس وقت یوگوسلاویہ کی وفاقی ریاست کا ایک حصہ تھا اور جہاں بوس مین ماضی میں افریقی طلبا کی مرکزی تنظیم کے سربراہ بھی رہے تھے۔

پیٹر بوس مین کا کہنا ہے کہ انہیں ایک ڈاکٹر کے طور پر سلووینیہ کے شہر پیران میں رہتے ہوئے 20 سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور انہیں سلووینیہ میں ان کا کوئی بھی ہم وطن ایک سیاہ فام تارک وطن کے طور پر نہیں دیکھتا بلکہ ایک ایسے ڈاکٹر کے طور پر جو انہی کے ملک کا ایک شہری ہے اور مقامی زبان بہت اچھی لیکن ذرا مختلف لہجے میں بولتا ہے۔

’پیران کے اوباما‘ کی انتخابی کامیابی پر سلووینیہ کے ایک اخبار Vecerنے لکھا کہ ’’پیران کا اوباما جیت گیا ہے‘‘ جبکہ ایک دوسرے روزنامے Delo نے اس بارے میں اپنی خبر کی سرخی یہ لگائی کہ ’’پیران میں انتخابی معرکہ سلووینیہ کے ایک سٹار نے جیت لیا۔‘‘

گھانا کے ایک بہت خوشحال خاندان سے تعلق رکھنے والے اور خود بھی سیاست میں آ جانے والے ایک ڈاکٹر کے بیٹے پیٹر بوس مین نے اپنی کامیابی کے بعد کہا کہ ان کا میئر کے طور پر انتخاب یہ ثابت کرتا ہے کہ سلووینیہ میں جمہوریت اور جمہوری سوچ کتنی ترقی کر چکی ہے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM