1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

سلووینیہ میں مہاجرین کو روکنے کے لیے سخت ترین قانون منظور

سلووینیہ کی پارلیمان نے جمعرات کے روز مہاجرین کو ملک میں داخلے سے روکنے اور سرحد عبور نہ کرنے دینے سے متعلق سخت ترین قانون کی منظوری دے دی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اس قانون پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

سلووینیہ کی پارلیمان کی جانب سے اس نئے قانون میں پولیس کو یہ اختیارات دیے گئے ہیں کہ اگر کروشیا کی سرحد سے مہاجرین کی آمد کا نیا سلسلہ شروع ہو، تو وہ سرحد کو فوری طور پر بند کر سکتے ہیں۔ بلقان ہی کے خطے سے سن 2015ء میں ایک ملین سے زائد مہاجرین مغربی اور شمالی یورپی ممالک پہنچے تھے۔

اس نئے قانون کے تحت، سلووینیہ میں حکام کو یہ اختیارات بھی دیے گئے ہیں کہ وہ کروشیا کی سرحد پر ہی سیاسی پناہ کی درخواستوں کو رد کرتے ہوئے، مہاجرین کو ملک میں داخل ہونے سے روک سکتے ہیں۔ یہ بات اہم ہے کہ کروشیا یورپی یونین کا رکن تو ہے، مگر شینگن زون میں نہیں آتا۔ اس قانون میں کہا گیا ہے کہ اگر مہاجرین کی تعداد میں اچانک اضافہ ہوتا ہے اور عوامی تحفظ اور داخلی سلامتی کو خطرات لاحق ہوتے ہیں، تو حکام فوری اقدامات کرتے ہوئے مہاجرین کو ملک میں داخل ہونے سے روک سکتے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ قانون دو برس قبل ہنگری اور پھر آسٹریا میں منظور ہونے والے ان قونین کا عکس معلوم ہوتا ہے، جن میں مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کے لیے ایسے ہی سخت اقدامات کیے گئے تھے۔

سلووینیہ کے وزیراعظم میرو کیرار کے مطابق، ’’یہ شدید نوعیت کے اقدامات اس تیاری کا حصہ ہیں کہ اگر ضرورت پڑے، تو ان کا استعمال کیا جا سکے۔‘‘

یہ بات اہم ہے کہ سن 2015ء کے وسط سے لاکھوں مہاجرین، جن میں اکثریت شامی باشندوں کی تھی، بلقان کا راستہ استعمال کرتے ہوئے یورپی یونین کے مختلف ممالک میں پہنچے تھے۔ تاہم گزشتہ برس مارچ میں یورپی یونین اور ترکی کے درمیان طے پانے والے معاہدے اور بلقان ریاستوں کی جانب سے اپنی قومی سرحدیں بند کر دینے کے بعد اس راستے کے ذریعے مغربی اور شمالی یورپ پہنچنے والے افراد کی تعداد میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ مہاجرین کو پناہ دینے کے حوالے سے یورپی یونین میں جرمنی پیش پیش رہا، جس نے قریب نو لاکھ افراد کو اپنے ہاں جگہ دی۔