1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

سلوواکیہ ایماندار ’ثالث‘ ہو گا، میرکل

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے امید ظاہر کی ہے کہ جب سلوواکیہ رواں برس ششماہی بنیادوں پر یورپی یونین کے صدر ملک کی ذمہ داریاں سنبھالے گا تو وہ مہاجرین کے بحران کے حل کے لیے ایماندارانہ ثالثی کرے گا۔

سلوواکیہ جولائی سے یورپی یونین کے صدر ملک کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال رہا ہے۔ یورپی یونین کے تمام اٹھائیس رکن ممالک ششماہی بنیادوں پر اس بلاک کی صدارت سنبھالتے ہیں۔

جرمن چانسلر میرکل نے جمعرات کے دن سلوواک وزیر اعظم رابرٹ فیکو سے ملاقات کے بعد دہرایا کہ مہاجرین کے بحران کے حل کے لیے تمام رکن ممالک کو ایک متفقہ حکمت عملی کے تحت چلنا ہو گا۔ انہوں نے آج ایک پیرس کانفرس میں توقع ظاہر کی ہے کہ براٹسلاوا اس تناظر میں اہم کردار ادا کرے گا۔

میرکل کے ساتھ ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رابرٹ فیکو نے بھی یقین دلایا کہ ان کا ملک اپنی ذمہ داری احسن اور دیانت دارانہ طریقے سے نبھانے کی بھرپور کوشش کرے گا۔

فیکو نے مزید کہا، ’’ہم یہ جانتے ہیں کہ ہمارا ملک بطور یورپی یونین کے صدر ملک اپنے مفادات کو اس بلاک پر افضل قرار نہیں دے سکتا۔‘‘ میرکل نے فیکو کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا کہ کچھ اختلافات کے باوجود دیگر امور پر تعیمری مذاکرات کیے جا سکتے ہیں۔

مہاجرین مخالف پالیسیاں اختیار کرنے والے ملک سلوواکیہ کو ایک ایسے وقت میں یہ ذمہ داریاں سونپی جا رہی ہیں، جب یورپ کو مہاجرین کے شدید ترین بحران کا سامنا ہے اور یورپی یونین اس بحران سے نمٹنے کو اپنی اولین ترجیح قرار دے رہی ہے۔

بائیں بازو کے نظریات سے تعلق رکھنے والے سلوواک وزیر اعظم رابرٹ فیکو رواں برس مارچ میں تیسری مرتبہ وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز کیے گئے تھے۔ انہوں نے حال ہی کہا تھا کہ سلوواکیہ میں اسلام کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

Brüssel EU Gipfel Ankunft Robert Fico

سلوواک وزیر اعظم رابرٹ فیکو نے حال ہی کہا تھا کہ سلوواکیہ میں اسلام کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے

رابرٹ فیکو کے مطابق اگرچہ وہ مہاجرت مخالف اپنی قومی پالیسی میں تبدیلی نہیں کریں گے لیکن بطور یورپی یونین کے صدر ملک وہ ایک ایماندار ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے ممکنہ سمجھوتوں پر پہنچنے کی کوشش کریں گے۔

لکسمبرگ کے وزیر خارجہ ژاں ایسلبورن نے البتہ کہا ہے کہ سلوواکیہ اپنی مدت صدارت میں مہاجرین کے بحران کے حل کے لیے مناسب اقدامات نہیں کرے گا۔ انہوں نے حوالہ دیا کہ مئی میں براٹسلاوا کی طرف سے یورپی یونین کے کوٹہ سسٹم کے تحت پندرہ سو مہاجرین کو پناہ دینے کے فیصلے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ملک اس بحران میں قائدانہ صلاحیتیں نہیں دکھا سکے گا۔

ملتے جلتے مندرجات