1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سلمان تاثیر کی چھٹی برسی، کیا کچھ تبدیل ہوا ؟

پاکستانی صوبے پنجاب کے مقتول گورنر سلمان تاثیر کے قتل کو آج چھ برس ہو گئے ہیں۔ مختلف سیاسی اور سماجی شخصیات  اقلیتیوں کے حق میں  آواز اٹھانے والے مقتول گورنر کو خراج تحسین پیش کر رہی ہیں۔

چھ برس قبل سلمان تاثیر کو ان ہی کے گارڈ ممتاز قادری نے قتل کر دیا تھا۔ سلمان تاثیر نے ایک مسیحی عورت آسیہ بی بی کے لیے آواز اٹھائی تھی جسے عدالت کی جانب سے پیغمبرِ اسلام کی توہین کرنے کے جرم میں سن 2010 میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ سلمان تاثیر پاکستان میں توہینِ مذہب قانون کے نقاد تھے۔  اُن کی رائے میں اس قانون میں ترمیم کی جانی چاہیے تھی۔ اُن کا موقف تھا کہ کئی افراد اپنی ذاتی دشمنیوں میں اس قانون کا غلط استعمال کرتے ہیں اور  عموماﹰ  اقلیتوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

پاکستان میں جمہوری اور روشن خیال سوچ کے حامل افراد آج سلمان تاثیر کی چھٹی برسی پر انہیں خراج تحسین  پیش کر رہے ہیں۔ مضمون نگار خاتون صدف علوی نے سلمان تاثیر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اپنے کالم میں  لکھا،’’ بے شک سلمان تاثیر کو قتل کر دیا گیا لیکن نا انصافی کے خلاف اِن کی آواز کو  کبھی خاموش نہیں کیا جا سکے گا۔‘‘

پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے سلمان تاثیر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا،’’ سلمان تاثیر نے یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان سب کے لیے ہے۔ کمزور، بے سہارا اور اقلیتوں کا تحفظ کرنا ہر اُس پاکستانی شہری کا فرض ہے جو اس ملک کے قائد کے خیالات اور اُن کی سوچ کا پیرو کار ہے۔‘‘

بلاول زرداری کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سلمان تاثیر قوانین کے غلط استعمال کے خلاف پہاڑ کی طرح کھڑے ہو گئے تھے۔

 رضا رومی جو خود بھی پاکستان میں قاتلانہ حملے کا شکار رہے، نے اپنے ایک مضمون میں لکھا،’’ سلمان تاثیر کی وجہ سے آج پاکستان میں ملائیت پسندی کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک آسان اور مختصر جنگ نہیں ہو گی، یہ جنگ جاری رہے گی۔ جب بھی انصاف، انسانی حقوق اور دلیل کی بات ہوگی تو سلمان تاثیر کا ذکر کیا جائے گا۔‘‘ 

صحافی نسیم زہرہ نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا،’’سلمان تاثیر ایک بہادر شخص تھے۔ یہ بات قابلِ ستائش ہے کہ وہ ایک ایسے شخص کے حق میں کھڑے ہو گئے جسے اُن کی رائے میں انصاف ملنا چاہیے تھا۔ خدا ہی حتمی فیصلہ کرنے والا ہے۔‘‘

پاکستان میں سن 2015 میں دو سو سے زائد افراد کے خلاف توہینِ مذہب کے مقدمات درج کیے گئے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق پاکستانی مذہبی اقلیتوں سے تھا۔ اِس قانون کے ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اس قانون کو ذاتی دشمنیاں نمٹانے کے لیے غلط طور پر  استعمال کیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ سلمان تاثیر کے قاتل  ممتاز قادری کو گزشتہ برس پھانسی کی سزا دے دی گئی تھی۔ سینکڑوں افراد نے ممتاز قادری کے جنازے میں شرکت کی تھی۔

 واضح رہے کہ راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے ممتاز قادری کو یکم اکتوبر 2011ء کو دو بار سزائے موت اور جرمانے کا حکم سنایا تھا۔ ممتاز قادری نے اس سزا کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی، جس پر عدالت نے گزشتہ سال گیارہ فروری کو انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت ممتاز قادری کو سنائی گئی سزائے موت کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ تاہم عدالت نے فوجداری قانون کے تحت اس کی سزائے موت کو برقرار رکھا تھا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے ملزم کی رحم کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے نہ صرف موت کو سزا کو برقرار رکھا تھا بلکہ انسداد دہشت گردی کی دفعات کو بھی بحال کر دیا تھا۔ اس کے بعد صدر ممنون حسین نے بھی ممتاز قادری کی معافی کی اپیل مسترد کر کے سزا کو برقرار رکھا تھا۔

 

DW.COM