1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سلمان تاثیر کی زندگی پر ایک نظر

اسلام آباد میں قتل ہونے والے66 سالہ سلمان تاثیر نے اپنی سیاسی زندگی کا سفر انیس سو ساٹھ کی دہائی میں شروع کیا۔ وہ پاکستان کے ایک روشن خیال اور اعتدال پسند سیاستدان تھے، جن کا مؤقف ہمیشہ انتہا پسندی کے خلاف رہا۔

default

سلمان تاثیر اپنی اہلیہ کے ہمراہ

مقتول سلمان تاثیر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں قاسم ضیاء اور میاں یوسف صلاح الدین کے رشتہ دار اور مشہور شاعر فیض احمد فیض کی اہلیہ ایلس فیض کے بھانجے تھے۔ لاہور میں 1946ء میں پیدا ہونے والے سلمان تاثیر کے والد ڈاکٹر محمد دین تاثیر شاعر، ادیب اور دانشور تھے۔ ان کے والد وہ پہلے ہندوستانی تھے، جنہوں نےکیمبرج یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ڈاکٹریٹ ڈگری حاصل کی۔ ان کے والد لاہور کے مشہور اسلامیہ کالج کے پرنسپل تھے۔

اس دور کو دیکھا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ تاثیر ملک کے دانشور طبقے اور اشرافیہ میں پلے بڑھے۔ انہوں نے سینٹ انتھونی اسکول لاہور سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور حزب اختلاف کے رہنما میاں نواز شریف کے ساتھ اسکول جاتے رہے۔

Salman Taseer

سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے سلمان تاثیر

ان کی ویب سائٹ کے مطابق کم عمری میں ہی ان کے والد انتقال کر گئے تاہم وہ وفات سے پہلے ان کی تعلیم وتربیت کے لئے کچھ رقم چھوڑ گئے تھے۔ ان کی والدہ نے ان کو تعلیم کے لئے برطانیہ بھیجا، جہاں وہ دن کو کام اور رات کو سٹڈی کرتے تھے۔ انہوں نے 1980ء کی دہائی میں جنرل ضیاء کے ہاتھوں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خاتمے اور پھر ان کی گرفتاری اور پھانسی کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں حصہ بھی لیا اور جیل بھی کاٹی۔

اپنے سیاسی کیریئر کے دوران سلمان تاثیر 16 بار گرفتار اور کئی بار نظر بند ہوئے۔ انہوں نے سن 1980 میں ذوالفقار علی بھٹو کی سوانح عمری بھی لکھی۔ 1988ء کے انتخابات میں وہ پی پی پی کے ٹکٹ پر لاہور سے پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 1990ء میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر اور بعد ازاں قائد حزب اختلاف کے طور پر خدمات سر انجام دیتے رہے۔

سلمان تاثیر کو 2008ء میں سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کا گورنر مقرر کیا تھا۔ ان کی تعیناتی کی سفارش فروری 2008ء کے انتخابات کے بعد برسر اقتدار آنے والی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے کی تھی۔ بعض سیاستدانوں کا خیال کے سفارش کرنے والوں میں موجودہ صدر بھی شامل تھے۔

Pakistan Gouverneur Salman Taseer ermordet

ڈوئچے ویلے کو انٹرویو ریکارڈ کرواتے ہوئے سلمان تاثیر

بےنظیر بھٹو کے قریبی ساتھی سمجھے جانے والے سلمان تاثیر نے سن 1990 اور ترانوے کے علاوہ سن 1997 کے عام انتخابات میں لاہور سے قومی اسمبلی کی نشست کے لیے الیکشن لڑا تاہم وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ بعدازاں انہوں نے عملی سیاست کو خیرباد کہہ دیا اور اپنی تمام تر توجہ اپنے کاروبار کو مستحکم کرنے پر مرکوز کردی۔

سلمان تاثیر نے 1995ء میں ”ورلڈ کال“ کی بنیاد رکھی جو اس وقت پاکستان میں ٹیلی کام کے نجی شعبے کی ایک اہم کمپنی ہے۔ وہ ”ورلڈ کال گروپ“ اور ”فرسٹ کیپیٹل“ کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹر افیسرکی حیثیت سے بھی خدمات سر انجام دے رہے تھے۔ اس کے علاوہ ان کے بزنس گروپ کی ملکیت میں ”بزنس پلس“ نامی ایک نیوز ٹی وی چینل، ”Wikkid پلس“ نامی بچوں کا ٹی وی چینل، ”ڈیلی ٹائمز“ نامی انگریزی اخبار اور ”روزنامہ آج کل“ نامی اردو اخبار بھی ہے۔

گورنر پنجاب کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے لے کر اسلام آباد میں ان کے قتل تک ان کے اور پنجاب حکومت کے درمیان تعلقات مسلسل کشیدہ رہے۔ وہ نواز شریف اور شہباز شریف کے کڑے ناقد تھے۔ سلمان تاثیر نے لواحقین میں اپنی اہلیہ آمنہ تاثیر اور دو بیٹوں اور چار بیٹیوں کو چھوڑا ہے۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس