1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

سلمان بٹ اپنے خلاف سماعت کے التواء کے خواہشمند

اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کی زد میں آئے ہوئے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور افتتاحی بلے باز سلمان بٹ اگلے ماہ کے اوائل میں شروع ہونے والی اینٹی کرپشن ٹریبیونل کی سماعت ملتوی کروانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ICC کو مطلع کردیا ہے

default

سلمان بٹ اور دوسرے کھلاڑی

کرکٹ کے کھیل کے نگران عالمی ادارے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC) کی جانب سے قائم کردہ اینٹی کرپشن ٹریبیونل اگلے ماہ کی چھ سے گیارہ تاریخ تک تین پاکستانی کرکٹرز کے خلاف اسپاٹ فکسنگ معاملے کی سماعت کرے گا۔ ٹریبیونل سے پاکستانی کرکٹر سلمان بٹ نے درخواست کی ہے کہ وہ اس سماعتی عمل کو مؤخر کر دے۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان کی خواہش ہے کہ وہ اینٹی کرپشن ٹریبیونل کی سماعت سے قبل لندن میں ممکنہ طور پر شروع ہونے والی فوجداری چھان بین کے سلسلے سے نمٹنا زیادہ ضروری سمجھتے ہیں۔

سلمان بٹ کی درخواست پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور اینٹی کرپشن ٹریبیونل کے درمیان ایک ٹیلی کانفرنس کل بدھ کو شیڈول ہے اور اس میں فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا چھ جنوری سے شروع ہونے والی ٹریبیونل کی سماعت ملتوی کر دی جائے۔

سلمان بٹ کے مطابق لندن میں وکالت کرنے والے یاسین پٹیل ان کے مقدمے کی پیروی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے قائم کردہ ٹریبیونل میں کریں گے۔ یہ عدالتی کارروائی خلیجی ریاست قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مکمل کی جائے گی۔ اسی مناسبت سے تیز بالر محمد عامر کے وکیل شاہد کریم کا کہنا ہے کہ وہ اور ان کے مؤکل دوحہ میں شروع ہونے والے عدالتی عمل میں شریک ہوں گے۔ شاہد کریم کے نزدیک سلمان بٹ کے وکیل نے مقدمے کی تیاری کے حوالے سے مہلت طلب کی ہے اور اس باعث وہ سماعت مؤخر کروانے کی خواہش کر سکتے ہیں۔

Pakistan Cricket Manipulation

سلمان بٹ انگلینڈ کے دورے کے دوران

اسی سال انگلینڈ کے دورے پر گئی پاکستانی کرکٹ ٹیم کے تین کھلاڑیوں محمد آصف، سلمان بٹ اور محمد عامر کو اسپاٹ فکسنگ کے الزامات کے تحت انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے ہر قسم کی کرکٹ کھیلنے سے معطل کر رکھا ہے۔ ان کھلاڑیوں کی معطلی ختم کرنے کی اپیل خارج ہو چکی ہے۔ اب ان تینوں کرکٹرز کے خلاف مکمل عدالتی کارروائی کا عمل چھ جنوری سے شروع ہونا تھا۔ تین رکنی ٹریبیونل کو سماعت کے بعد سزاؤں کا بھی تعین کرنا تھا۔

ان تینوں کھلاڑیوں کو امکانی طور پر لندن میں بھی فوجداری الزامات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے برطانوی محکمہ پولیس اسکاٹ لینڈ یارڈ کی جانب سے لندن میں قائم کراؤن پروسیکیوشن سروس کو دو رپورٹیں بھی موصول ہو گئی ہیں۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ کے ایجنٹوں نے لندن میں اُس پاکستانی ہوٹل پر چھاپے بھی مارے تھے جہاں کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی ٹھہرے ہوئے تھے۔

دوسری جانب نیوزی لینڈ کا دورہ کرنے والی پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ وقار یونس نے کھلاڑیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ نیوزی لینڈ میں ہر ممکن طریقے سے صاف ستھری کرکٹ کھیلیں اور اسی سے ان کے وقار میں اضافہ ہو گا۔ پاکستانی ٹیم کے کوچ کے مطابق اس وقت پاکستانی کھلاڑی کھیل کے میدان میں اور اس سے باہر ایک ’کلین‘ رویہ اپنائے ہوئے ہیں، جو انتہائی اطمینان بخش ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس