1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سلامتی کونسل کے پانچ غير مستقل ارکان کا چناؤ آج

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل وہ ادارہ ہے جسے دنيا ميں امن قائم رکھنے کے لئےبہت اہم ذمہ دارياں انجام دینا پڑتی ہيں۔ کُل پندرہ رکنی سلامتی کونسل کے دس غير مستقل رکن ملکوں میں سے پانچ کا انتخاب آج کيا جارہا ہے۔

default

نيو يارک ميں سلامتی کونسل کا چيمبر

سلامتی کونسل کے غيرمستقل اراکين کا انتخاب 192 ممالک پر مشتمل جنرل اسمبلی ميں کيا جاتا ہے۔ جن پانچ غير مستقل نشستوں پر انتخاب آج ہو رہا ہے، اُن کے لئے اميدوار ریاستوں ميں جرمنی اور بھارت بھی شامل ہيں۔ ليکن يہ دونوں ممالک دو سال کے لئے سلامتی کونسل کے غير مستقل ممبر بننے کے علاوہ اس ادارے کے مستقل رکن بھی بننا چاہتے ہيں۔

سلامتی کونسل کے 10 غير مستقل اراکين کو ہميشہ دو دو سال کے لئے چنا جاتا ہے۔ آج جن پانچ غير مستقل نشستوں کے لئے انتخاب ہو رہا ہے، اُن ميں سے دو کے لئے کينيڈا، پرتگال اور جرمنی کے درميان مقابلہ ہے۔ يہ دو نشستيں، ترکی اور آسٹريا 31 دسمبر کو خالی کر رہے ہيں۔

NO FLASH UN Sicherheitsrat in New York

سلامتی کونسل کے ایک اجلاس کا منظر

باقی تين نشستوں کے لئے جنوبی افريقہ، بھارت اور کولمبيا امیدوار ہيں، جنہيں يہ نشستيں مل جانا تقريباً يقينی ہے کيونکہ کوئی اور ملک اُن کا حريف نہيں ہے۔ يہ تين نشستيں يوگنڈا، جاپان اور ميکسيکو خالی کر رہے ہيں۔

سلامتی کونسل کا غير مستقل رکن منتخب ہونے کے لئے 192 ممالک کی اسمبلی ميں دو تہائی اکثريت کی حمایت حاصل کرنا ضروری ہيں۔ يہ اميدوار دنيا کے پانچ خطوں ميں واقع ممالک سے لئے جاتے ہيں۔

سلامتی کونسل کے مستقل رکن ملک پانچ ہيں، جو کہ امريکہ، برطانيہ، فرانس، روس اور چين ہيں۔ ان ملکوں کو اقوام متحدہ کی رکن پانچ بڑی طاقتیں بھی کہا جاتا ہے۔ دس غير مستقل اراکين کو دو دو سال کے لئے چنا جاتا ہے۔ پانچوں مستقل اراکين کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کو اپنی ويٹو کی طاقت کے ذريعے روک دينے کا اختيار بھی حاصل ہے اور وہ اس عالمی ادارے کے فيصلوں پر بہت زيادہ اثرانداز ہو سکتے ہيں۔

UN Vollversammlung in New York eröffnet

نيويارک ميں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس

سن 1945 ميں جب11 نشستوں پرمشتمل سلامتی کونسل قائم کی گئی تھی تواقوام متحدہ ميں صرف 50 ممالک شامل تھے۔ سلامتی کونسل کے اراکين کی تعداد ميں اضافے کا مطالبہ کئی برسوں سے کيا جا رہا ہے۔

جرمنی کے دوبارہ اتحاد کے بعد سے سابق وزير خارجہ کلاؤس کنکل اور سابق چانسلر شرؤئڈر تک کئی جرمن سياستدان بڑے پُرزور انداز ميں سلامتی کونسل ميں جرمنی کو مستقل نشست دينے کے مطالبے کر چکے ہيں۔

موجودہ چانسلر انگيلا ميرکيل نے بھی يہ مطالبہ کيا ہے، ليکن اپنے ہی انداز ميں، دبے لہجے ميں اور حکمت کے ساتھ۔ ليکن اُن کی مخلوط حکومت ميں شامل جماعت ايف ڈی پی نے اپنے سیاسی اپوزيشن کے دور ميں سلامتی کونسل ميں جرمنی کی نہيں بلکہ پوری يورپی يونين کی مستقل نشست کے لئے کوشش کی تھی۔

رپورٹ: شہاب احمد صدیقی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM