1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سلامتی کونسل میں لیبیا میں نیٹو مشن کو ختم کرنے کے حوالے سے رائے شماری

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں آج جمعرات کو لیبیا میں سات ماہ سے جاری نیٹو کی فضائی کارروائی کو ختم کرنے کی قرارداد کے بارے میں رائے شماری ہو گی۔

default

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اگر یہ قرارداد منظور ہو گئی تو 31 اکتوبر سے لیبیا میں نیٹو کے لیے اقوام متحدہ کا مینڈیٹ ختم ہو جائے گا۔

رواں برس مارچ میں اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 1973 کے تحت لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی کی حکومت کے دور میں ملک میں نو فلائی زون قائم کرنے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ معمر قذافی کی ہلاکت کے بعد 23 اکتوبر کو قومی عبوری کونسل کی حکومت نے لیبیا کی مکمل آزادی کا اعلان کر دیا تھا۔ ادھر اقوام متحدہ میں لیبیا کے سفیر ابراہیم دباشی نے سلامتی کونسل سے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کا مینڈیٹ ختم کرنے سے پہلے کچھ انتظار کیا جائے کیونکہ نئی حکومت کو ملک کی سکیورٹی صورتحال کا اندازہ لگانے اور اپنی سرحدوں کی نگرانی کے لیے کچھ وقت درکار ہے۔ قومی عبوری کونسل کے سربراہ مصطفٰی عبدالجلیل نے بھی بدھ کو کہا تھا کہ ہمسایہ ملکوں میں قذافی کے وفادار اب بھی ان کی کمزور انتظامیہ کے لیے خطرہ ہیں۔

Libyen Mustafa Abdel Jalil 13. August 2011

قومی عبوری کونسل کے سربراہ مصطفٰی عبدالجلیل نے کہا ہے کہ ہمسایہ ملکوں میں قذافی کے وفادار اب بھی ان کی کمزور انتظامیہ کے لیے خطرہ ہیں

تاہم مغربی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کے اراکین نیٹو کے مشن کے خاتمے کے حق میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی عبوری کونسل نے جن معاملات میں نیٹو سے مدد کی درخواست کی ہے، وہ اقوام متحدہ کے دائرہ کار سے باہر ہیں۔

فرانس کے سفیر جیرارڈ ارود نے کہا کہ بہت سے ملک فوجی کارروائی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لیبیا کے بیانات کے باوجود 31 اکتوبر کو اقوام متحدہ کا مینڈیٹ ختم ہونے کا امکان ہے۔ اقوام متحدہ میں روس کے سفیر ویٹالی چرکن نے کہا کہ 31 اکتوبر کے بعد تک کے لیے نیٹو کے مشن میں توسیع ’غیر حقیقت پسندانہ‘ ہو گی۔

مارچ میں اقوام متحدہ کی لیبیا میں نو فلائی زون سے متعلق قرارداد پر سلامتی کونسل کے رکن ملک تقسیم کا شکار ہو گئے تھے۔ روس، چین، جنوبی افریقہ، برازیل اور بھارت نے نیٹو پر الزام لگایا کہ اس نے قذافی حکومت کے خلاف فضائی حملوں میں اپنے اختیار سے تجاوز کیا ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے لیبیا سے متعلق خصوصی نمائندے آئن مارٹن نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ قذافی کی حکومت نے طیارہ شکن میزائلوں کا سب سے بڑا ذخیرہ جمع کر لیا تھا۔ انہوں نے کہا، ’’نیٹو کی کارروائیوں کے دوران ان میں سے ہزاروں میزائلوں کو تباہ کر دیا گیا مگر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ان میزائلوں کی چوری پر تشویش بڑھ رہی ہے۔‘‘

اقوام متحدہ کے سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ کونسل کی جانب سے روس کی طیارہ شکن میزائلوں کے پھیلاؤ سے متعلق تشویش پر مبنی ایک قرارداد کی منظوری بھی متوقع ہے۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM