1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سلامتی کونسل میں عدم اتفاق، فائدہ شمالی کوریا کو

جزیرہ نما کوریا کے شمالی حصے کی کمیونسٹ ریاست کی طرف سے متنازعہ راکٹ کے تجربے کے بعد اتوار کی رات جاپان کی درخواست پر بلایا جانے والا سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بے نتیجہ ہی ختم ہو گیا جس سے فائدہ شمالی کوریا کو ہوا۔

default

راکٹ تجربے کے بعد سیئول میں امریکی سفارت خانے کے قریب احتجاج کرتے ہوئے جنوبی کوریائی مظاہرین

اس اجلاس کے بعد میکسیکو کے سفارت کار اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر Claude Heller نے نیویارک میں بتایا کہ رکن ملکوں کے مابین طویل بحث کے بعد بھی جب اس خصوصی اجلاس کا کوئی نتیجہ نکلتا نظر نہ آیا تو کونسل کے اراکین نے اس بارے میں اتفاق رائے کا اظہار کیا کہ شمالی کوریا کے راکٹ تجربے کے خلاف عالمی ادارے کے ممکنہ اقدامات سے متعلق فوری مشاورت فی الحال ملتوی کردی جائے۔

یہ بات اس لئے پیانگ یانگ میں شمالی کوریا کی قیادت کی خواہشات کے عین مطابق ہو سکتی ہے کہ پہلے تو اس نے واشنگٹن، ٹوکیو اور سیئول کی بار بار کی تنبیہات کے باوجود اپنے ارادے تبدیل نہ کئے اور اتوار کی صبح اپنے ایک ایسے متنازعہ راکٹ کا تجربہ کر دیا جو اس کے بقول خلاء میں پیانگ یانگ کا اپنا ایک سیٹیلائیٹ بھیجنے کی تیاری کے سلسلے میں تھا۔

Nordkorea Mexiko UN-Botschafter Heller

سلامتی کونسل کے صدر ہیلر اجلاس کے بعد نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے

امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا کا مشترکہ دعویٰ ہے کہ شمالی کوریا نے دراصل طویل فاصلے تک مار کرسکنے والے ایک فوجی راکٹ کا تجربہ کیا ہے جس کی اسے اقوام متحدہ کی ایک قرارداد کے تحت اجازت نہیں ہے۔ یہ راکٹ شمالی کوریا کی سرزمین سے فائر کئے جانے کے بعد جاپان کی فضا میں بہت اونچائی پر پرواز کرتا ہوا ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد بحر الکاہل کے پانیوں میں جاکرگرا تھا۔

امریکی صدرا باراک اوباما کے بقول کمیونسٹ کوریا یہ ٹیسٹ کرکے عالمی ادارے کی منظور کردہ قرارداد کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے اور اب امریکہ ایسے اقدامات کرے گا جن کے ذریعے پیانگ یانگ کو علاقے کی سلامتی کو مزید خطرے میں ڈالنے سے روکا جاسکے گا۔ سلامتی کونسل میں شمالی کوریا کے اس راکٹ تجربے سے متعلق بحث کے دوران پیانگ یانگ کے سب سے بڑے اتحادی ملک چین نے کہا کہ اس معاملے میں ہر کسی کو احتیاط پسندی کا مظاہرہ کرنا چاہیئے۔

یہ دیکھتے ہوئے کہ نیویارک میں اقوام متحدہ کا سب سے اعلیٰ ترین ادارہ بھی اس کے متنازعہ راکٹ تجربے کے خلاف فوری طور پر کسی اتفاق رائے تک نہیں پہنچ سکا، اتوار کو رات گئے پیانگ یانگ میں شمالی کوریائی حکومت نے یہ بھی کہہ دیا کہ اگر اس راکٹ ٹیسٹ کے باعث کمیونسٹ کوریا کو کسی بھی شکل میں سز ادینے کی کوشش کی گئی تو شمالی کوریا نہ صرف اپنے ایٹمی پروگرام کے بارے میں ہونے والے مذاکرات سے نکل جائے گا بلکہ اپنی ایٹمی تنصیبات میں سے پلوٹونیئم تیار کرنے والے ایک پلانٹ کو بھی دوبارہ چلانا شروع کردے گا۔

اس پوری صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ٹوکیو میں پیر کے روز جاپانی حکومت کے ایک نمائندے نے کہا کہ شمالی کوریا کے خلاف نئی پابندیوں سے متعلق ممکنہ فیصلوں کے لئے جاپانی کابینہ کا ایک اجلاس آئندہ جمعہ کے روز ہوگا۔