1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سلامتی کونسل میں شمالی کوریا پر مزید پابندیاں لگانے پر غور

شمالی کوریا کے حالیہ جوہری اور میزائل تجربات اور اس سے وابستہ بیانات کی وجہ سے پیونگ یانگ نے دنیا بھر کے ممالک کو مشتعل کیا ہے۔ جس کے باعث اسے اب اقوام متحدہ کی جانب سے مزید سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

default

شمالی کوریا کے ایٹمی تجربات کے بعد خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے

مغرب کے سفارتی حلقوں میں شمالی کوریا پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے مزید پابندیاں لگانے سے متعلق بحث جاری ہے۔ اس کا آغاز شمالی کوریا کی جانب سے حالیہ دنوں میں کئے گئے جوہری اور میزائل تجربات کے بعد ہوا۔

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے گذشتہ روز کہا تھا کہ اقوام متحدہ میں بہت جلد شمالی کوریا کے خلاف سخت پابندیاں لگانے کے حوالے سے ایک قرارداد پیش کی جائے گی، جس کو چین اور روس سمیت پوری عالمی برادری کی حمایت حاصل ہوگی۔ تاہم روسی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے بدھ کے روز کہا کہ شمالی کوریا کو سزا دینے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اس سے حالات خراب ہوسکتے ہیں اور اس مسئلے کا پر امن حل تلاش کیا جانا چاہیے۔

ماسکو شمالی کوریا کے خلاف مزید سخت پابندیوں کا حامی نہیں ہے۔ روسی ترجمان نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی جانب سے کمیونسٹ کوریا کے خلاف کم سے کم پابندیوں کے ساتھ قرارداد کے حق میں ہے۔ تاہم جاپانی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کوریا پر سخت ترین پابندیاں لگانے کے حوالے سے روسی وزیر خارجہ نے اپنے جاپانی ہم منصب سے بات چیت کرنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔

امریکہ نے گذشتہ روز اپنے اتحادی جنوبی کوریا سے، کمیونسٹ کوریا کے بحری جہازوں میں ممکنہ طور پر وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تلاشی کے لئے کہا تھا جس پر سیئول نے اپنی آمادگی بھی ظاہر کر دی تھی۔ تاہم پیونگ یانگ نے سیؤل کو کوریائی سمندری حدود میں ایسی کسی کارروائی کی صورت میں فوری حملے کی دھمکی دی تھی۔

جنوبی کوریا کے ایک خبررساں ادارے نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ کمیونسٹ کوریا نے پلوٹونیم تیار کرنے والے اپنے پلانٹ کو دوبارہ فعال بنا لیا ہے۔ جوہری ماہرین کے اندازوں کے مطابق شمالی کوریا تکنیکی طور پر جوہری تجربات باقاعدہ طریقے سےکرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا کیونکہ پیونگ یانگ کا حالیہ ایٹمی تجربہ سائنسی اعتبار سے اس حد تک کامیاب نہیں رہا جتنا اسے سمجھا جا رہا ہے۔

DW.COM