1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سلامتی کونسل میں شام کی مذمت کروانے میں ناکامی

سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ متعدد یورپی ممالک کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کی مذمت کروانے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ایک سفارتکار نے خبر رساں ادارے روئٹروز کو بتایا کہ ابھی ’کوئی بیان جاری نہیں کیا جائے گا۔‘

شام میں اسد مخالف مظاہرے

شام میں اسد مخالف مظاہرے

متعدد سفارتکاروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایسے کسی مذمتی بیان کی روس، چین اور لبنان کی جانب سے مزاحمت کی گئی۔ سفارتکاروں کے مطابق رواں ہفتے برطانیہ، فرانس، جرمنی اور پرتگال نے اِس مذمتی بیان کا ایک مسودہ پیش کیا تھا، جس میں شام کی پُر امن احتجاجی تحریک کو طاقت کے ذریعے کچلنے کے اقدام کی مذمت کی جانا تھی۔

پندرہ رکنی سلامتی کونسل میں ہونے والی بحث میں امریکہ اور یورپی ممالک نے، جن میں فرانس، برطانیہ اور جرمنی بھی شامل ہیں، کہا کہ شام میں مظاہرین کی ہلاکتوں کے سلسلے کو روکنے کے لیے زیر غور اقدامات میں شامی رہنماؤں کے خلاف پابندیاں بھی شامل ہیں۔

استنبول میں ترک اور شامی مظاہرین صدر بشار الاسد کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں

استنبول میں ترک اور شامی مظاہرین صدر بشار الاسد کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں

بدھ کو فرانسیسی وزیر خارجہ الاں ژوپے نے پیرس میں کہا کہ ان کی حکومت کے خیال میں شام کی غیر مبہم اور واضح انداز میں مذمت کی جانی چاہیے اور یورپی یونین کی جانب سے پابندیوں کے نفاذ کا امکان موجود ہونا چاہیے۔

تاہم روس اور چین کے نمائندوں نے کہا کہ شام کی صورتِ حال کو بین الاقوامی امن اور استحکام کے لیے کوئی خطرہ قرار نہیں دیا جا سکتا، اس لیے پابندیوں جیسے اقدامات پر بھی غور ضروری نہیں ہے۔ تاہم روس اور چین کے ان نمائندوں نے صدر بشار الاسد پر زور دیا کہ وہ ملکی بحران کو حل کرنے کے لیے سیاسی مکالمت عمل میں لائیں۔

اِسی دوران سلامتی کونسل کو اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل برائے سیاسی امور بی لِن پاسکو کی جانب سے شام میں پیش آنے والے تازہ ترین حالات پر نئی رپورٹ پیش کی گئی۔ اس رپورٹ میں دمشق حکومت پر مظاہرین کو حراست میں لینے، اُنہیں تشدد کا نشانہ بنانے، صحافیوں کو گرفتار کرنے اور احتجاج کرنے والوں کے خلاف بھاری اسلحہ استعمال کرنے جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ پاسکو نے کہا کہ شامی سکیورٹی فورسز کی جانب سے ہلاک کیے جانے والے مظاہرین کی تعداد 350 تا 400 بتائی جا رہی ہے۔

اس تصویر میں 27 اپریل کو شامی ٹینکوں کو درعا کی جانب جاتے دکھایا گیا ہے

اس تصویر میں 27 اپریل کو شامی ٹینکوں کو درعا کی جانب جاتے دکھایا گیا ہے

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر سوزن رائس نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ واشنگٹن حکومت غیر مسلح مظاہرین کے خلاف شامی حکومت کی طرف سے طاقت کے استعمال کی ’شدید مذمت‘ کرتی ہے اور دمشق حکومت کے خلاف کئی ایک پابندیاں زیرِ غور ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ امریکہ جنیوا میں اقوام متحدہ کی حقوقِ انسانی کونسل کے اُن اقدامات کی بھی تائید کرتا ہے، جن کا مقصد شام میں ہونے والی ہلاکتوں کی تحقیقات کروانا ہے۔

سلامتی کونسل میں باشر جعفری کا موقف بھی سنا گیا، جو اقوام متحدہ میں شام کے سفیر ہیں۔ جعفری نے مظاہرین کو ایسے انتہا پسند قرار دیا، جن کا مقصد ’شام کی حکومت کا تختہ الٹنا ہے‘۔ جعفری نے کہا کہ یہ ’مسلح عناصر ہیں، جو بے گناہ شہریوں اور سکیورٹی فورسز کے ارکان کو ہلاک کر رہے ہیں۔‘ جعفری نے امریکہ کی بھی اُس ’بے بنیاد دعوے‘ کے لیے مذمت کی، جس کے مطابق ایران مظاہرے کچلنے کے لیے شام کی مدد کر رہا ہے۔

چونکہ سلامتی کونسل کے ارکان کے درمیان کسی ایک بیان پر اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا ہے، اِس لیے شام کا معاملہ اب سلامتی کونسل کے کھلے اجلاس میں اٹھایا جائے گا۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس