1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سلالہ چیک پوسٹ واقعے کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی

امریکی محکمہء دفاع پینٹاگون کے مطابق سلالہ چیک پوسٹ واقعے کے ضمن میں ذمہ داران کے خلاف ضابطے کی کارروائی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

امریکی محکمہء دفاع پینٹاگون کے ترجمان کیپٹن جون کیربی نے منگل کے روز صحافیوں کو بتایا کہ واقعے کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ کو بنیاد بنا کر ذمہ داران کا تعین کیا جائے گا۔ 25 اور 26 نومبر کی درمیانی شب سلالہ چیک پوسٹ پر امریکی حملے میں 24 پاکستانی فوجی مارے گئے تھے۔ فی الحال امریکہ اور پاکستان کے مابین اعتماد کی کمی اور حملے کے وقت رابطہ کاری میں غلطیوں کو حادثے کا سبب قرار دیا جا رہا ہے۔

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو اور امریکہ کی مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پاکستانی فوجیوں نے امریکی فوجیوں پر فائرنگ میں پہل کی تھی جو سرحد کے قریب ایک گاؤں میں ہیلی کاپٹر سے اتر رہے تھے۔ رپورٹ کے مطابق چونکہ سلالہ چیک پوسٹ کے قیام سے متعلق پاکستانی فوج نے افغان اور اتحادی افواج کو آگاہ نہیں کیا تھا لہٰذا امریکی افواج کو لگا کہ عسکریت پسندوں نے ان پر حملہ کر دیا ہے۔ خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق چونکہ پاکستان احتجاج کے طور پر تحقیقاتی عمل میں حصہ نہیں لے رہا اس لیے یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ پاکستانی فوجیوں نے فائرنگ میں پہل کیوں کی۔ پاکستان کا البتہ مؤقف ہے کہ اِس کی افواج نے فائرنگ میں پہل نہیں کی تھی۔ پاکستان کے فوجی ترجمان میجر جنرل اطہر عباس اِس امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہیں کہ پاکستان نے نیٹو کو سلالہ چیک پوسٹ کی نشاندہی بھی نہیں کروائی تھی۔

Nato Beschuss Pakistan

سلالہ چیک پوسٹ پر حملے میں چوبیس پاکستانی فوجی اہلکار مارے گئے تھے

امریکی محکمہء دفاع کے مطابق سلالہ چیک پوسٹ واقعے کی تحقیقات سے متعلق پاکستانی فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ اتوار کو جنرل کیانی کے سپرد کر دی گئی تھی۔ پینٹاگون کے ترجمان کیپٹن کیربی کے بقول پیر کو یہ رپورٹ عام کرنے سے ایک روز قبل یہ رپورٹ جنرل کیانی کو فراہم کی گئی تاکہ پاکستانی قیادت حقائق سے آگاہ ہوسکے، ’’ہم چاہتے ہیں کہ جنرل کیانی تمام معاملے کو دیکھ سکیں۔‘‘

امریکی مرکزی کمان کے جنرل جیمز این ماٹس نے اب افغانستان متعین کمانڈروں کو ہدایت کی ہے کہ پاک افغان سرحد کے قریب آپریشنز کے دوران پاکستانی فوج سے رابطے بہتر کیے جائیں اور تمام سرحدی چوکیوں کے نقشوں پر درست نشاندہی کی جائے۔ سلالہ چیک پوسٹ واقعے کے بعد سے اب تک پاکستان نے اپنے ہاں سے افغانستان متعینہ غیر ملکی افواج کے لیے رسد کی فراہمی بند کر رکھی ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: امجد علی

DW.COM