1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سفری پابندی کے بعد امريکا کا ويزا کسے ملے گا، کسے نہيں؟

امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال مارچ ميں چھ مسلم ممالک کے شہريوں کے امريکا میں داخلے اور ويزے پر متنازعہ پابندی پر عملدرآمد انتيس جون سے شروع ہو رہا ہے۔ يہ پيش رفت سپريم کورٹ کے فيصلے کے بعد ہوئی ہے۔

DW.COM

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سفری پابندی سے متاثرہ چھ مسلم ممالک کے شہريوں کے ليے امريکی ويزے کے حصول کے ليے اب يہ لازم ہو گا کہ ان کا امريکا ميں کوئی قريبی رشتہ دار ہو يا پھر ان کے کسی کمپنی کے ساتھ براہ راست اور مضبوط روابط ہوں۔ امريکی عدالت عظمیٰ کے فيصلے کے بعد ٹرمپ کی سفری پابندی پر عمل در آمد جمعرات انتيس جون سے شروع ہو رہا ہے۔ اس موقع پر امريکی محکمہ خارجہ نے متاثرہ ممالک کے شہريوں کے ليے تفصيلات جاری کی ہيں، جن ميں واضح کيا گيا ہے کہ کون سے رشتہ دار ويزے کے اہل ہوں گے۔ کمپنی يا کاروباری ادارے کے ساتھ رابطے کی تفصيلات بھی واضح کی گئی ہيں۔

امريکی سپريم کورٹ نے چند روز قبل ہی صدر ٹرمپ کی متنازعہ عارضی سفری پابندی پر جزوی عمل در آمد کی اجازت دے دی تھی۔ شام، سوڈان، ايران، صوماليہ، ليبيا اور يمن کے باشندے اس پابندی سے متاثر ہوں گے اور يہ اس سلسلے ميں جاری کردہ ٹرمپ کا دوسرا صدارتی حکم نامہ ہے۔ پہلے حکم نامے کو ايک عدالت نے روک ديا تھا تاہم دوسرا کچھ عرصے تک قانونی جھميلوں ميں رہنے کے بعد بالآخر اب آگے بڑھ رہا ہے۔ آج جمعرات سے اس پر عمل در آمد شروع ہو رہا ہے۔

عدالت عظمیٰ کے فيصلے کی روشنی ميں متاثرہ ممالک کے شہريوں کے ليے ويزے کی نئی شرائط بدھ اور جمعرات کی درميانی شب امريکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کر دی گئی تھيں۔ نيوز ايجنسی روئٹرز کے ہاتھ لگنے والے مسودے ميں امريکی کونسلر سروسز کو نئی ويزا پاليسی کے بارے ميں ہدايات دی گئی ہيں۔ متاثرہ ملکوں کے شہريوں کو امريکی ويزا اسی صورت ديا جا سکتا ہے جب ان کے والدين، بيٹا يا بيٹی، بہن يا بھائی اور داماد يا بہو امريکا ميں مقيم ہوں۔ اس کے علاوہ جن افراد کو ملازمت يا کسی تعليمی ادارے وغيرہ ميں بولنے کے ليے سرکاری طور پر دعوت دی گئی ہو، انہيں بھی اس پابندی سے استثنی حاصل ہو گا۔